لاہور، فاسٹ بولر محمد عباس نے واضح کیا ہے کہ رفتار بڑھانے سے زیادہ میری ساری توجہ وکٹ حاصل کرنے پر ہوتی ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں محمد عباس نے کہا کہ پہلے کون سا ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرتا تھا جو اب کہا جارہاہے کہ اسپیڈ کم ہوئی ہے، ہمیشہ ایک سو تیس کے آس پاس بولنگ کرتا ہوں، جب وکٹیں مل رہی ہوتی ہیں تو بالر میں ایک انرجی آتی ہے اور پانچ چھ کلومیٹر رفتار میں اضافہ ہوجاتاہے۔ دس اوورز بعد بھی وکٹ نہ ملے تو پھرایساجسم تھکا تھکا لگنے لگتاہے۔محمد عباس کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ جب بھی موقع ملے، پاکستان کے لیے بہترین کارکردگی دکھاں، سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے عباس نے کانٹی کرکٹ کھیلنے کو شاندار تجربہ قرار دیاہے۔ ان کا کہناہے کہ وکٹ حاصل کرنے کے لیے اسکلز کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ فٹنس میں بہتری کے لیے بھی کوشاں ہوں۔نیشنل ہائی کیمپ میں شامل دائیں ہاتھ کے پیسر نے بتایا کہ انگلینڈ سے واپسی پر ایک دم ٹھنڈے موسم سے لاہور کی گرمی میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگا، کاونٹی سے واپسی پر آرام نہیں کیا، سیدھا کیمپ کو جوائن کیا، آگے بڑھنے میں ٹریننگ کے ساتھ لیکچرز بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
