الام آباد (سب نیوز )اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے فل کورٹ اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے ساتھی ججز کو وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیا۔چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت ایک گھنٹے پچاس منٹ تک چلنے والے فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شریک ہوئے۔
آج ہونے والے فل کورٹ اجلاس سے پہلے چیف جسٹس اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔وزیراعظم چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ پہنچے جہاں دونوں شخصیات کے درمیان ملاقات تقریبا ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہی۔
گزشتہ روز بھی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ہوا تھا جس میں ججز کے خط پر غور کیا گیا اور ججز کے خط کی آئینی و قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی خط کے معاملے پر انکوائری کرانے کا اعلان کردیا ہے۔
ججز خط کے معاملے پر حکومت کی جانب سے انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا جس کی سربراہی کے لئے سابق جج تصدق جیلانی اور سابق جج ناصرالملک کے نام زیرغور ہیں۔ذرائع کے مطابق دونوں سابق چیف جسٹسز کے نام سر فہرست ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کو تحقیقات سے متعلق مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
