ہومپاکستانبجٹ 2021، پانی بحران پر قابو پانے کیلئے اربوں روپے مختص

بجٹ 2021، پانی بحران پر قابو پانے کیلئے اربوں روپے مختص

اسلام آباد،آئندہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت آبی وسائل ڈویژن کے آبی شعبے کی مختلف جاری اور نئی سکیموں کے لئے 9312.692 روپے مختص کئے گئے ہیں۔

جمعہ کو جاری ہونے والے پی ایس ڈی پی کے مطابق ضلع خضدار میں بسول ڈیم کی تعمیر کے لئے 1000ملین روپے ،ضلع چکوال میں گھبیر ڈیم 2000 ملین روپے ،سندھ میں چھوٹے آبی ذخائر کے لئے 3000 ملین روپے ، دیامیر بھاشا ڈیم (ڈیم حصہ ) کیلئے 15000 ملین روپے ، دیامیر بھاشا ڈیم حصول اراضی کے لئے 7000ملین روپے ، کچھی کینال فیز I منصوبے 1860ملین روپے ، کرم تنگی ڈیم کے لئے 3000 ملین روپے ، نئی گاج ڈیم منصوبے کے لئے 5000 ملین روپے ،نولانگ 1000ملین روپے ، رینی کینال منصوبے فیز I کے لئے 1672 ملین روپے ،آواران ڈیم کے لئے 1500ملین روپے ، پنجگور ڈیم کے لئے 1700ملین روپے ، پپین ڈیم کے لئے 1654 ملین روپے ، کے فور گریٹر واٹر سپلائی سکیم کے لئے 15112 ملین روپے اور توپاک ڈیم کے لئے 500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہے، وزیراعظم پانی کی ذخیرہ گاہوں، چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیمز کی تعمیر کے خواہشمند ہیں تاکہ مستقبل میں ہماری پانی کی ضرورت پوری کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تین بڑے ڈیم داسو، دیا مر بھاشا اور مہمند کی تعمیر بجٹ میں ہماری ترجیح ہو گی، ہمارا مقصد ان منصوبوں کی وقت پر تکمیل ہے۔ بجٹ میں آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کل 91 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ پانی سے بجلی بنانے کے منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔داسو ہائیڈرو پراجیکٹ، پہلے مرحلے کے لیے 57 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔دیا مر بھاشا ڈیم کے لیے 23 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔مہمند ڈیم کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کیلیے 14 ارب روپے کی تجویز ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ آبی تحفظ میں اضافے کے لیے بہت سے دیگر منصوبے بھی زیر عمل ہیں جن میں دروٹ ڈیم، خٹ بانڈا ڈیم، ماخ بانڈا ڈیم، پیزر ڈیم، سری کالاش، وینڈر ڈیم شامل ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔