ہومبریکنگ نیوزپنجاب اسمبلی اجلاس کا ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے آغاز، نعرے بازی، شور شرابہ

پنجاب اسمبلی اجلاس کا ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے آغاز، نعرے بازی، شور شرابہ

لاہور(سب نیوز )سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کے بعد شروع ہو گیا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے نامزد وزیراعلی مریم نواز کی ایوان آمد پر ارکان نے شور شرابہ اور نعرے بازی کی، سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے نواز شریف کے خلاف نعرے لگا دیئے، جواب میں مسلم لیگ ن کے ارکان نے سیٹوں پر کھڑے ہو بانی پی ٹی آئی کے خلاف نعرے لگائے۔

اجلاس کے دوران خلیل طاہر سندھو کو مریم اورنگزیب نعرے لگانے کا اشارہ کرتی رہیں اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے لگائے۔اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی صدارت میں شروع ہوا، سپیکر کیلئے ن لیگ کے ملک احمد خان اور سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر میں مقابلہ ہے، ڈپٹی سپیکر کیلئے مسلم لیگ ن کے ملک ظہیر اقبال اور سنی اتحاد کونسل کے معین ریاض مد مقابل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 316 ارکان اسمبلی موجود ہیں، ایوان میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے 217 ارکان موجود ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے 99 ارکان بھی اجلاس میں شریک ہیں، پنجاب اسمبلی میں اجلاس کے آغاز پر سپیکر سبطین خان نے مزید 6 نومنتخب ارکان اسمبلی سے حلف لیا۔حلف لینے والوں میں سنی اتحاد کونسل کے حافظ فرحت، نوابزادہ وسیم بادوزئی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شافع حسین شامل ہیں۔

اس سے قبل سپیکرپنجاب اسمبلی سبطین خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے اب تک پروڈکشن آرڈر کی درخواست نہیں کی، پنجاب اسمبلی کے احاطے کسی کو گرفتار نہیں ہونے دوں گا۔سبطین خان نے مزید کہا کہ میاں اسلم اقبال نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا، پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر وہ آئیں گے، پی ٹی آئی کے امیدوار سنی اتحاد کونسل میں آئے، انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔