سرینگر،مقبوضہ جموں و کشمیرمیں اگست 2019میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ایک کے بعد دوسرے لا ک ڈائون کی وجہ سے معیشت کو 45000 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
کشمیرمیڈیا سرس کے مطابق وادی کشمیر کی تجارتی تنظیموں کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق صرف رواں سال 30 اپریل سے 30 مئی تک ایک ماہ طویل لاک ڈائون کے باعث معیشت کو 5000 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ کشمیر ایوان صنعت وتجارت کے صدر شیخ عاشق حسین کے مطابق اگست 2019ء میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد چار ماہ تک جاری رہنے والی پابندیوں ، کرفیواور لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو 17ہزار878 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔اس کے بعد 2020 میں کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیر کی معیشت کو 27ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ تجارتی اداروں کے مطابق رواں سال 30 اپریل سے 30 مئی تک معیشت کو5000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ چیئرمین کشمیر اکنامک الائنس محمد یاسین خان نے کہا کہ صرف ایک دن میں معیشت کو ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تقریبا 50 فیصد تاجر کاروبار جاری رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے کیونکہ انہوں نے مالیاتی اداروں سے قرض لیا ہے اور وہ قسطیں اداکرنے کے قابل نہیں ہیں۔کشمیر اکنامک الائنس کو دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ 2020 میں ملک گیر کورونا لاک ڈائون کے دورا ن کشمیر کی معیشت کو تقریبا 27ہزارکروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
