لندن ،پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی برطانوی فیشن میگزین ووگ کے جولائی میں آنے والے ایڈیشن کے سرورق کی زینت بن گئیں۔23 سالہ ملالہ نے ٹوئیٹ میں آنے والے میگزین کے سرورق کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ جانتی ہیں کہ جب کسی لڑکی کا کوئی نظریہ ہو اور کچھ کرنے کی ہمت تو اس کے دل میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ جو بھی لڑکی یہ سرورق دیکھے گی وہ جان لے گی وہ بھی دنیا کو بدل سکتی ہے۔ملالہ یوسفزئی نے ووگ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے لباس کے بارے میں بھی بات کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا مذہبی اور پشتونوں کی ثقافتی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان لڑکیاں، پشتون لڑکیاں، یا پاکستانی لڑکیاں اگر اپنے روایتی لباس پہنتی ہیں تو ہمیں مظلوم، مجبور یا مردوں کی سرپرستی میں زندگی گزارنے والا سمجھا جاتا ہے، لیکن میں سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت میں رہ کر اپنی الگ آواز اور مساوی حقوق بھی رکھ سکتے ہیں۔ملالہ یوسفزئی کو 2014 میں لڑکیوں کی تعلیم اور آزادی کے حق میں آواز بلند کرنے پر امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا، ملالہ کوکینیڈا کی طرف سے اعزازی شہریت، یونیورسٹی آف کنگز کالج اور ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا جا چکا ہے۔جبکہ 2020 میں 22 سال کی عمر میں انہوں نے برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی 12 جولائی 1997 کو سوات کے علاقے منگورہ میں پیدا ہوئیں۔ملالہ9 اکتوبر 2012 کو اسکول سے واپسی کے دوران دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا،جس میں وہ شدید زخمی ہوئیں،انہیں علاج کے لئے پہلے پشاور اور بعد ازاں برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا۔12 جولائی 2013 کو اپنی سالگرہ کے دن ملالہ یوسف زئی نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب بھی کیا تھا۔انہیں 2014 میں صرف 17 سال کی عمر میں امن کا نوبل انعام ملا تھاجبکہ ملالہ کو عالمی سطح پر 40 سے زائد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ملالہ نے گزشتہ سال آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی ڈگری حاصل کی تھی۔
ملالہ یوسفزئی برطانوی فیشن میگزین کے سر ورق کی زینت بن گئیں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
