ہومپاکستاناوورسیز پاکستانیز کی جائیداددوں کو قبضہ مافیا سے بچانے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

اوورسیز پاکستانیز کی جائیداددوں کو قبضہ مافیا سے بچانے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

اسلام آباد ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی ذیلی کمیٹی میں اوور سیز پاکستانیزنے بیرون ممالک مقیم پاکستابیوں کی جائیداددوں کو قبضہ مافیا سے بچانے کیلئے قانون سازی اور وفاقی سطح پر اسلام آباد پولیس میں اصلاحات کا ڈرافٹ وزارت قانون اور نیشنل پولیس بیورو سے طلب کر لیا ۔

بدھ کے روز وزارت قانون و انصاف کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر کمیٹی احسان ٹوانہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ وزارت قانون کے حکام نے کمیٹی اجلاس کو بتایا کہ بیرون ممالک پاکستانیز باہر سے اپنی جائیداد خریدنے کیلئے جو پیسہ بھجواتے ہیں لوگ ان سے جائیداد خرید کر اپنے نام کروا لیتے ہیں جس سے ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اب جو وہ رقوم ملک کے اندر بھیجے گا اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا ۔2005کے قانون کے مطابق قبضہ رکوا سکتی ہے کنونئیر کمیٹی احسان ٹوانہ نے کہا پولیس تو خود قبضے کرواتی ہے سب کو معلوم ہے مدعی کی بجائے اس کی دلچسپی کسی اور کے ساتھ ہوتی ہے، ممبر کمیٹی محسن رانجھا نے کہا تھانوں کی کمائی کروڑوں روپے ہو تی ہے تھانیدار کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہو تے ہیں، قبضہ مافیہ مظبوط سے مظبوط تر ہوتا جا رہا ہے قبضہ کرنے میں پولیس بھی ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ وزارت قانون کے حکام نے بتایا اس کا حل پولیس اصلاحات میں ہے جب مدعی قبضے کی درخواست پولیس کو دے گا تو وہ عدالت میں جواب دہ ہو گا کہ جب درخواست آگئی تھی تو کیوں کاروائی نہیں کی گئی ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے قانون لے کر آ رہے ہیں کیس کی مدت 30 دن کرنے کی تجویز ہے کنونئیر کمیٹی ملک احسان اللہ ٹوانہ نے کہا کہ قبضہ میں ادارے بھی ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں، ایک ایک پولیس سٹیشن ماہانہ پیسے لیتا ہے۔ رکن کمیٹی ، محسن رانجھا نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ قانون شہادت میں ثبوتوں کی مائکرو فلمنگ کریں اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں ای لیب بنائیں نیشنل پولیس بیورو کے ڈی آئی جی ثاقب سلطان نے اجلاس کو بتایا کہ وہ اسلام آباد پولیس اصلاحات کا بل وزارت داخلہ کو جمع کرایا ہے جسے جلد کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا جس پر مختلف این جی اوز ، دانشوروں اور اعلی حخام نے اس کی ڈرافٹنگ کی ہے ۔ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں بل کی تفصیلات طلب کر لیں ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔