ہومپاکستانحکومت کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کے معاملہ پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وفاقی محتسب انسداد ہراسیت فوزیہ وقار

حکومت کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کے معاملہ پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وفاقی محتسب انسداد ہراسیت فوزیہ وقار

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے کہا ہے کہ ہراساں کئے جانے والے افراد کو مفت اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، حکومت کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کے معاملہ پر عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پیر کو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز نے ’’ہراسیت کے خلاف تحفظ‘‘ کے موضوع پر ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔ وفاقی محتسب برائے ہراسیت فوزیہ وقار تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ سیمینار میں بڑی تعداد میں طلباء اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حاضرین کو وفاقی محتسب انسداد ہراسیت سیکرٹریٹ (فوسپا) کی طرف سے چلائی جانے والی 16 روزہ آگاہی مہم کے بارے میں آگاہ کیا جس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر تشدد کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوسپا جیسے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ ہراساں کئے جانے والے افراد کو مفت اور بروقت انصاف ملے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی ہے۔ اپنی پریذنٹیشن میں فوسپا کی لاء آفیسر مہر جامی نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے ایکٹ 2010 کی وضاحت کی۔

انہوں نے بتایا کہ 2010 کے ایکٹ میں حالیہ ترامیم کے بعد طلباء فوسپا میں ہراساں کرنے کی شکایات درج کرا سکتے ہیں ۔ سیمینار کا اختتام سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا جہاں طلباء نے بنیادی طور پر کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے پسماندہ علاقوں میں رہائش پذیر خواتین اور مردوں کے موجودہ تحفظات اور فوسپا کی جانب سے ہراساں کئے جانے کی حساس نوعیت کی شکایات سے نمٹنے کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں دریافت کیا۔ فوزیہ وقار نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ فوسپا پاکستان میں کہیں بھی واقع وفاقی اور غیر صوبائی اداروں سے متعلق شکایات سننے کا اہل ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔