ہومپاکستانتنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھا نے کی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی،شوکت ترین

تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھا نے کی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی،شوکت ترین

اسلام آباد( آئی پی ایس ) وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھانیکی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی اس بار آئی ایم ایف سخت رویہ اپنایا ۔جب تک ریوینیو نہیں بڑھایا جائے گا معیشت میں استحکام نہیں آئے گا، جون تک فیٹف سے نکل آئیں گے ،جو ٹیکس نہیں دے رہے ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ،مہنگائی کا خاتمہ اولین ترجیح اور ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنا ہو گا ۔ بجلی کے ٹیرف میں آئی ایم ایف کے کہنے پر اضافہ نہیں ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے اس بار پاکستان کیساتھ سخت رویہ اپنایا، ہم نے تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھانے کی آئی ایم ایف کی تجویز قبول نہیں کی، آئی ایم ایف کے ساتھ اس تجویز پر بات چیت جاری ہے۔ موجودہ حکومت نے چند اہداف پر خصوصی توجہ دی، ایکسپورٹ انڈسٹری، زراعت اور تعمیرات سیکٹر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، جب کہ اب حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی کم کرنا ہے، زراعت کیحوالے سے قلیل المدتی منصوبوں پرکام ہورہاہے، ایکسپورٹ میں مزید اضافے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کیلئے مختلف اسکیم ز لیکر آرہی ہے، امیر اورغریب کے لئے ایک جیسی گروتھ ہونی چاہیے، اوورسیز پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے محبت کرتے ہیں، اور اسی محبت و پیار کی وجہ سے اس بار اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں ریکارڈ پیسے بھجوائے جس نے ملکی معیشت کو سہارادیا۔ انہو ں نے کہا کہ صنعتوں پر توجہ دینے سے معاشی گروتھ حاصل ہوئی ہے، 12 شعبوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، زرعی شعبے پر توجہ نہ دینے سے پاکستان خوراک امپورٹ کرنے لگا،ذخیرہ اندوزی کو ختم کر کے اسٹریٹیجک ریزرو کے ذریعے قیمتیں نیچے لائیں گے، معاشی گروتھ کو مزید بڑھایا جائے گا، ٹرکل ڈاون افیکٹ سے ہمیں چھوٹے طبقے کو اٹھانا ہے، ہم ایک بڑا معاشی انقلاب لا رہے ہیں،ہماری معیشت کو ترسیلات زر نے سہارا دیا ہوا ہے، اورسیز پاکستانیز عمران خان کی وجہ سے پیسے زیادہ بھیج رہے ہیں، جب تک ریوینیو نہیں بڑھایا جائے گا معیشت میں استحکام نہیں آئے گا، پورے ملک سے پیسے اکھٹے ہوتے ہیں اور بڑے شہروں میں خرچ ہوتے ہیں، بلوچستان اور کے پی کا پیسہ انہیں علاقوں میں خرچ ہونا چاہئے،اسی فارمولے کے تحت معاشی گروتھ آئے گی،گروتھ نمبر سے وزارت خزانہ کا کوئی تعلق نہیں ہے،گروتھ نمبر کو متنازع نہیں بنانا چاہیے، بجلی کے ٹیرف میں آئی ایم ایف کے کہنے پر اضافہ نہیں ہوگا، ٹیکسز کے نظام میں بھی بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ برقرار ہے ختم نہیں ہوا، آئی ایم ایف کی شرائط پر ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں حتمی فیصلہ ہے،متبادل چیزیں کریں گے متبادل منصوبہ بندی ہی حل ہے،لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالا نہیں جا سکتا لوگ پہلے ہی پس چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ جون میں فیٹف سے نکل آئیں گے کیونکہ ہم نے فیٹف کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔