ہومبریکنگ نیوزآئی ایم ایف نے پاکستانی کسانوں پر بجلیاں گرا دیں

آئی ایم ایف نے پاکستانی کسانوں پر بجلیاں گرا دیں

اسلام آباد(سب نیوز)آئی ایم ایف وفد نے پاکستانی حکام سے مذاکرات کے چوتھے روز مطالبہ کیا ہے کہ ٹیوب ویل صارفین سے بجٹ سبسڈی واپس لی جائے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد سے پاکستانی ٹیم کے مذاکرات چوتھے روز بھی جاری ہیں۔ جس میں پاکستان کی جانب سے کامیاب ڈیٹا شیئرنگ کی گئی۔ وزارت خزانہ نے جولائی تا ستمبر تک معاشی اعداد و شمار پیش کیے، آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے ڈیٹا سے اتفاق کرلیا۔

آئی ایم ایف نے مالیاتی خسارہ اور معاشی ترقی کی شرح کے ڈیٹا پر اطمینان کا اظہار کردیا۔ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس آمدن کے اعدادوشمار پر بھی مطمئن ہوگئے۔

آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر 23 میں معیشت کا حجم ایک لاکھ 5 ہزار 817 ارب روپے تک جاپہنچا، جولائی تا ستمبر مالیاتی خسارہ 2525 ارب کے ہدف سے کم کرکے 964 ارب روپے لایا گیا، جولائی تا ستمبر وفاق نے محض 40 ارب روپے ترقیاتی بجٹ خرچ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی تا ستمبر ٹیکس آمدن میں 25فیصد اضافے پر آئی ایم ایف نے ایف بی آر کو سراہا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ جولائی تا ستمبر ٹیکس آمدن 2042 ارب روپے رہی، جولائی تا ستمبر نان ٹیکس آمدن کی مد میں 453 ارب روپے جمع ہوئے، جولائی تا ستمبر پٹرولیم لیوی کی مد میں 222 ارب روپے جمع ہونے پر آئی ایم ایف مطمئن ہوگیا۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹ خسارے محدود کرکے اس میں 2 ارب ڈالر کمی کی کوششوں کی تعریف کی گئی۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ٹیوب ویل صارفین کیلئے بجٹ سبسڈی ختم کی جائے۔ پاکستان زرعی شعبے کے لئے سولرائزیشن کا نظام متعارف کروائے۔

ٹیوب ویل سولرائزیشن اسکیم پر 90 ارب خرچ ہوں گے جو منظوری کے لئے کابینہ کو پیش کی جائے۔ 90 ارب روپے میں 30 ارب وفاق، 30 ارب صوبے اور 30 ارب ٹیوب ویل صارفین دیں گے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران ٹیوب ویل سولرائزیشن اسکیم کو رواں مالی سال شروع کرنے پر بات چیت ہوئی۔ وزارت توانائی نے وزارت خزانہ، آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ٹیوب ویل سولرائزیشن اسکیم پر مشاورت کی۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ اسکیم پر عملدرآمد سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیوب ویلز صارفین کو بجلی استعمال کی مد میں سبسڈی نہ دی جائے۔ کاسٹ ریکورننگ ٹیرف بہتری کیلئے نیپرا سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس بروقت نوٹیفیکیشن کر رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے ڈسکوز، وزارت توانائی اور نیپرا کے درمیان تعاون اور فیصلوں پر جلد عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ آئی ایم ایف مشن سے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں وزارت توانائی اور وزارت خزانہ حکام کی اہم میٹنگ ہوئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔