Monday, June 8, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزریاست کیلئے سیاست دائو پر لگائی،نواز شریف کی واپسی پتھر پر لکیر ہے،شہباز شریف

ریاست کیلئے سیاست دائو پر لگائی،نواز شریف کی واپسی پتھر پر لکیر ہے،شہباز شریف

لاہور (آئی پی ایس )صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کو منظور ہوا تو نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے۔لاہور ماڈل ٹان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم بھی سیاست کو بچانے کیلئے ریاست کو ڈبو سکتے تھے، یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن ہم نے فیصلہ کیا سیاست کو نقصان پہنچتا ہے پہنچ جائے ریاست بچ جائے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ذاتی مقاصد کی خاطر ریاست کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ہماری 16ماہ کی مخلوط حکومت میں چیلنجز، مشکلات اور تاریخ کا بڑا سیلاب آیا، آئی ایم ایف کا بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے کی تھیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف ہمیں معاشی بدحالی ورثے میں ملی، دوسری طرف لانگ مارچ اور دھرنے تھے، 9 مئی کو پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بغاوت ہوئی، اس سال گندم کی پیداوار کا 10 سالہ ریکارڈ ہے، کپاس کی پیداوار میں بھی پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔

صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہم نے مسائل حل کرنے کیلئے جان توڑ کوشش کی، خدانخواستہ پاکستان دیوالیہ ہوجاتا تو کیا صورت گری ہوتی؟ ملک دیوالیہ ہوجاتا تو ایل سیز نہ کھل پاتیں، ادویات نہ مل رہی ہوتیں، پٹرول پمپ پر لائنیں لگیں ہوتیں،لاکھوں لوگ بیروزگار ہوتے۔شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے بجٹ میں یوتھ پیکیج دیا، اربوں روپے کے یوتھ لان دیئے، میری نظر میں پاکستان کو دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے اللہ نے مدد کی، نوازشریف کے دور میں ہر سال رمضان پیکیج دیا جاتا تھا، اس سال بھی رمضان شریف میں مفت آٹے کا پروگرام دیا گیا، آئی ایم ایف کے سامنے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، میں نے مطالبہ کیا تھا 200یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پر بوجھ نہیں پڑنے دیں گے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے قائد اگر کہتے ہم نے سیاست بچانی ہے تو میں 2منٹ بھی انتظار نہ کرتا استعفی دے دیتا، انتہائی محدود وقت اور وسائل میں جو کچھ بھی حقیر خدمت کرسکتے تھے کی، اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو سری لنکا سے بھی برا حال ہونا تھا، گھبرانے کی ضرورت نہیں، انشااللہ اچھا وقت آئے گا۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ بات اب ختم ہو جانی چاہیے کہ نواز شریف وطن واپس آ رہے ہیں یا نہیں اور وہ 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علم میں ہے کہ میاں نواز شریف 21 اکتوبر کو تشریف لا رہے ہیں اور اب آپ کو بار بار یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ آرہے ہیں یا نہیں آ رہے ہیں، یہ بات ختم ہو جانی چاہیے۔انہوں نے اپنی 16ماہ کی مخلوط حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں ہمیں ہمالیہ نما چیلنجز اور مشکلات بھی ملیں، دھرنے اور لانگ مارچز بھی تھے، تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب بھی آیا، پچھلی حکومت سے ٹرانسفر ہونے والی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا تھا اور آئی ایم ایف کا بہت بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا۔ا

ن کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط طے کی تھیں اور پھر خود ہی ان تمام شرائط کو ماننے سے انکار کردیا تھا اور جب تحریک عدم اعتماد کا مرحلہ قریب آ رہا تھا تو انہوں نے اپنی ذاتی سیاست اور اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ریاست کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ وہ عوامل ہیں جو آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور ہم فی الفور اپنی سیاست کو بچانے کے لیے ریاست کو ڈبو دیتے، یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن بطور ایک پاکستانی اور ایک ذمے دار حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے میرا فرض تھا کہ اگر سیاست کو نقصان پہنچتا ہے تو پہنچے، ریاست بچ جائے۔انہوں نے کہا کہ پھر پاکستان کی تاریخ سب سے بڑا سیلاب آیا، اس سے ہم نے نمٹنے کے لیے ہم نے جو بھی وسائل اور توانائیاں صرف کیں، مہنگائی بتدریج بڑھ رہی تھی اس پر ہم نے قابو پانے کی پوری کوشش کی،

معاشی بدحالی ہمیں ورثے میں ملی اور لانگ مارچ اور دھرنے بالآخر 9 مئی 2023 کو انتہائی نکتے پر پہنچ گئے جہاں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود آئی ایم ایف کا معاہدہ طے پایا، 2 ہزار ارب روپے کا کسان پیکج دیا گیا اور اس کے نتیجے میں اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، صوبائی حکومتوں کی کوشش سے کپاس کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ہم 16ماہ میں ہر میدان میں کامیاب ہوئے تو یہ کہنا مناسب نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہم نے مسائل حل کرنے کے لیے جان توڑ کوشش کی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان دیوالیہ ہو جاتا تو کیا صورت ہوتی

، پیٹرول پمپ خالی ہوتے اور قطاریں لگی ہوتیں، زندگی بچانے والی ادویات ناپید ہوتیں، ہماری ضروری درآمدات ان کی ایل سیز نہ کھل پاتیں اور اگر وہ کھلتیں بھی تو باہر کے بینک ان کو منظور نہ کرتے، روزمرہ کی اشیا نہ مل رہی ہوتیں، بینکوں پر چڑھائی ہو چکی ہوتی اور لوگ اپنے پیسے نکالنے کے لیے وہاں توڑ پھوڑ کررہے ہوتے، صنعتوں سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہو جاتے اور عالمی اداروں سے ایک دھیلا بھی نہ ملتا، یہاں ہر طرف ہنگامہ اور جلوس نکلے ہوتے، میری نظر میں پاکستان کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے اللہ تعالی نے پاکستان کی مدد کی اور میرے قائد نواز شریف نے اس میں میرا پورا ساتھ دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔