سرینگر،دنیا بھر میں اتوار کو جب ماں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مائیں اپنے ان لاپتہ جگرگوشوںکی منتظر ہیں جنہیں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 33برس کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کردیاہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج ماں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1989سے9مئی 2021ء تک خواتین اور بچوں سمیت95ہزار7سو80 کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران22ہزار 9سو 26خواتین کو بیوہ کیا اور11ہزار2سو 40خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا یا ان سے بدسلوکی کی ۔60سالہ مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین ، شازیہ اختر ، حسینہ بیگم ، سائمہ اور انشا طارق سمیت ایک درجن سے زائد کشمیری خوانین جھوٹے مقدمات میں نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل اور دیگر جیلوں میں نظربندہیں۔ رپور ٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 8ہزارسے زائد کشمیریوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اور ان لاپتہ افراد کی مائیں آج بھی اپنے جگرگوشوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔دریں اثناء حسینہ بیگم سمیت متعدد کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے کوچ کرگئی ہیں ۔ حسینہ بیگم کا بیٹا سید انور شاہ پیشے سے ایک رنگساز تھااور بھارتی فوجیوں نے انہیں 21جولائی 2000ء کو سرینگر میںگرفتارکرکے لاپتہ کردیا۔ کشمیر کے دوردراز علاقے کرہامہ سے تعلق رکھنے والی مہتابہ بیگم اپنے بیٹے محمد یعقوب کی راہ تکتے تکتے چل بسیں جس کو بھارتی فوجیوں نے 1990ء میں ایک کریک ڈائون کے دوران گرفتارکیا تھا۔وہ ایک مزدورتھا۔ بمنہ سرینگر کی بوٹ مین کالونی کی رہائشی مسرہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے شبیر حسین گاسی کوجس کو بھارتی فوجیوں نے 21جنوری 2000ء گرفتارکیاتھا، یاد کرتے کرتے وفات پاگئیں۔حمیدہ پروین اپنے بیٹے کو اس امید میں ہرجگہ تلاش کرتی رہیں کہ ایک دن ان کا بیٹا واپس آئے گا بیٹا واپس تو نہ آیا البتہ وہ خود 2012ء میں انتقال کرگئیں۔ ان کا بیٹا عابد حسن ایک طالب علم تھا۔ راج باغ سرینگر سے تعلق رکھنے والی زونہ بیگم کے بیٹے کو مئی 1996ء میں بھارتی فورسز نے گھرپر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ ان کابیٹا امتیاز احمد محکمہ جنگلات میں کام کرتا تھا۔ زونہ اپنے بیٹے کا انتظارکرتے کرتے 2011ء میں اس دنیا سے کوچ کرگئیں۔ بٹہ مالو سرینگر کی حلیمہ بیگم فروری2010 میں انتقال کرگئیں۔وہ اپنے بیٹے بشارت احمد شاہ کو 24سال تک تلاش کرتی رہیں۔ بشارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہا تھا۔ اس کو بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے 7جنوری 1990ء کو سوپور سے گرفتار کیا تھا۔ضلع بڈگام کے علاقے کائوسہ کی 65سالہ رحتی بیگم کے اکلوتے بیٹے محمد رمضان کو بھارتی فوجیوں نے 1994میں حراست میں لیا تھا جس کے بعد وہ آج تک گھر واپس نہیں لوٹا۔رحتی بیگم کا کہنا ہے کہ ان کے ارد گرد کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ اپنا دکھ بانٹ سکے۔ ان کے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے کچھ ماہ بعد انکا شوہر وفات پا گیا تھا ۔ رحتی بیگم نے اپنے بیٹے کو ہر جگہ تلاش کیا اور اس دوران انکی صحت گرتی چلی گئی۔
