کل 1914 افسران کا کریک ڈا ئو ن کیا گیا اور ان کے خلاف سخت قانوی کاروائی کی گئی،ذرائع پاور ڈویژن
اسلام آباد (آئی پی ایس )بجلی چوری کے روک تھام کے لیے کرپٹ افسران کے خلاف کریک ڈائون،ملک بھر میں بجلی کے بحران کی بڑی وجہ منظرعام پر آگئی، اداروں میں موجود کرپٹ افسران کی غیر قانونی ملی بھگت سے بجلی چوری کی جارہی تھی۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بجلی چوری کرنے والے کرپٹ افسران کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا گیا ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق آپریشن کے دوران کل 1914 افسران کا کریک ڈان کیا گیا اور ان کے خلاف سخت قانوی کاروائی کی گئی ۔آپریشن کے دوران لیسکو کے 351 افسران، گیپکو کے138، فیسکو کے 195، آئیسکو کے219، میپکو کے 314، پیسکو کے 299، ہیسکو کے 112، سیپکو کے 86، قیسکو کے 165، جبکہ ٹیسکو کے 35 افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کردی گئی ہےآپریشن کے دوران 248 بدنام اور منفی ساکھ کے حامل افسران کو بغیر کسی سفارش کے مختلگ علاقوں میں تبدیل کردیا گیا ۔
بجلی چوری کے ذمہ داران کے خلاف کریک ڈان کا سلسلہ جاری ہے اور تمام کرپٹ عہدہ داران کے خلاف قانونی کاروائیوں کو مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے ۔مختلف ڈسٹربیوشن کمپنیز کے 2199 سے زائد بجلی چوری کے مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں سے 1955 کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور 21 گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاچکی ہیں۔ڈسٹربیوشن کمپنیز پر 4 ملین یونٹس بجلی چوری ثابت ہونے پر 164 ملین پاکستانی روپوں کا جرمانہ عائد کیا گیا جس میں سے 11 ملین حاصل کرلیا گیا ہے عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے بجلی چوری کی روک تھام انتہائی ضروری ہے اور تمام ذمہ داروں کو جلدازجلد کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آپریشنز اور کریک ڈان کا سلسلہ جاری رہے گا
