لاہور(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 9 مئی کے ملزمان کو ایسی سزا ملے گی دوبارہ کوئی ایسی جرات نہیں کرسکے گا۔
لاہور میں سبزہ زار اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ بڑے چیلنجز کے باوجود بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف پہنچایا، ہم نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط خلوص کے ساتھ پوری کردی ہیں، پوری امید ہے آئی ایم ایف سے معاہدہ اسی ماہ ہوجائے گا۔وزیراعطم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر سارے منصوبے ٹھپ کردیے اور پاکستان میں ترقی کی رفتار کو کم کیا، صاف پانی اور لاہور میں گندگی اٹھانے کے منصوبوں پر مجھے نیب میں دھکے لگوائے گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 9مئی کا واقعہ دشمن کی دشمنی سے کم نہیں تھا، ملک میں بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن کبھی کسی نے فوجی تنصیبات اور قائد اعظم کے گھر پر حملہ نہیں کیا، دشمن بھی یہ کام 75 سال میں نہیں کرسکا جو پی ٹی آئی نے کیا، 9 مئی کے ملزمان کو ایسی سزا ملے گی کہ رہتی دنیا تک دوبارہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دو ہفتے دن رات عوام کو بجٹ میں ریلف دینے کیلئے کام کیا، میرے اوپر بڑا بوجھ تھا کہ کس طرح غریب آدمی کی تنخواہ بڑھاوں کیونکہ اس وقت تو 50 ہزار روپے میں بھی گزارہ نہیں ہے، تمام مشکلات کے باوجود ہم نے کم ازکم تنخواہ کو 25 ہزار سے بڑھاکر 32 ہزار روپے اور تنخواہوں و پنشن میں اضافہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اپریل 2022 میں جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو گزشتہ حکومت نے آئی ایم سے معاہدہ توڑ دیا تھا اور دنیا میں مہنگائی کا عروج تھا، یوکرین اور روس کی جنگ شروع ہوئی تھی اور تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا ملک کو سامنا کرنا پڑا، یہ وہ بڑے بڑے مسائل اور چیلنجز تھے جن کا ہمیں سامنا رہا۔شہباز شریف نے کہا جب گیس کی عالمی سطح پر کم تھیں تب گزشتہ حکومت نے یہ نہیں سوچا کہ وہ گیس کے معاہدے کرلیتے تو آج پاکستان کی معیشت کا یہ حال نہ ہوتا لیکن انکی ساری توجہ مخالفین کو جیلوں میں بھجوانے پر مرکوز تھی۔
علاوہ ازیں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ صدر اردوان کے ساتھ بہت قریب سے مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں، برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تجارت، سرمایہ کاری، باہمی روابط میں اضافے پر اتفاق ہوا ہے، آنے والے 3 سال میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے، دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں، ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ مشکل میں ایک دوسرے کی مدد کی، ترک سرمایہ کار شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں، ترک سرمایہ کاروں کو پن بجلی کے منصوبوں کیلئے بھی دعوت دیتے ہیں، پاکستان، ایران اور ترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک منصوبہ اہم ثابت ہو سکتا ہے، ہماری افرادی قوت زیادہ مہارت کی حامل ہونے کے باوجود مقابلتا سستی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ترکی کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی قوت دونوں ممالک کیلئے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں، پاکستان میں گزشتہ سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، فصلیں تباہ ہوئیں، تعمیراتی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، سیلابوں سے 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، ترکیہ نے کشمیر کاز کی ہمیشہ غیر مشروط حمایت کی، بھارت کا کشمیریوں کو زیر تسلط رکھنے کا طرزعمل بہت بڑا منفی پہلو ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، پی ٹی آئی چیئرمین کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، گزشتہ 4 سال میں ہماری قیادت کو قید کیا گیا، ہم نے نہ احتجاج کیا نہ تشدد کا کوئی واقعہ ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر شرپسندوں نے ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
