ہومبریکنگ نیوزسپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزسمیت اہم کیسزآئندہ ہفتے سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزسمیت اہم کیسزآئندہ ہفتے سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد:سپریم کورٹ میںچار جون سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران اہم مقدمات کی سماعت ہوگی۔جس میں پانامہ پیپرز کیس،کے الیکٹرک کی نجکاری، غیرملکی اثاثوں پر ٹیکس کے خلاف درخواستیں ، ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹس الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دینے کا کس اور بینکوں سے چون ارب روپے قرض معافی پر ازخود نوٹس سمیت دیگر کیسز روسٹر میں شامل ہیں۔رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے روسٹر کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کیلئے 2017 میں دائر درخواست 9 جون کو مقرر کر دی گئی ،جس پر جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ سنہ 2016 میں بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ ہے۔پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آئے اور اس وقت سے یہ معاملہ ملک کے سیاسی منظر نامے میں چھایا رہا۔روسٹر کے مطابق جماعت اسلامی کی کیالیکٹرک کی نجکاری کیخلاف 2015 میں دائر کی گئی درخواست بھی سماعت کیلئے مقررکی گئی،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 5 جون کو سماعت کرے گا ۔

سپریم کورٹ میں سات جون کو 3 اہم کیسز کی سماعت ہوگی،غیرملکی اثاثوں پر ٹیکس کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گا ،بجٹ 2022 میں غیرملکی اثاثوں پر ٹیکس کے خلاف 188 درخواستیں ہیں۔عدالت عظمی میں ججز اور بیورو کریٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیر قانونی قرار دینے کا کیس 3 جون کو جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ سنے گا۔

اس کے علاوہ بینکوں سے 54 ارب روپے قرض معافی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت بھی 3 جون کو ہوگی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی کرے گا ،سپریم کورٹ نے بینکوں سے اثر و رسوخ کے ذریعے قرض معافی پر2007 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 6 جون کو سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطاالحق قاسمی نظرثانی کیس کی سماعت کریگا ،عدالت نے 2018 میں عطاالحق قاسمی کی تقرری کالعدم قرار دیتے ہوئے مراعات واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ نظر ثانی درخواستیں پرویزرشید،اسحاق ڈاراور فواد حسن فواد نے دائر کر رکھی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔