ہومبریکنگ نیوزجسٹس قاضی فائزعیسی کا تفصیلی نوٹ عدالتی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

جسٹس قاضی فائزعیسی کا تفصیلی نوٹ عدالتی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

حافظ قرآن اضافی کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تاہم تھوڑی ہی دیر بعد اسے ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا تفصیلی نوٹ انگریزی اور اردو ترجمہ کے ساتھ ویب سائٹ پرجاری ہواتھا۔اس سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے حفاظ کرام کو میڈیکل داخلے میں اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق از خود نوٹس کے کیس میں اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عدلیہ کے جواز، وقار اور اعتبار پر حرف آیا تو عدلیہ اور پاکستان کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کے بغیر عوام عدلیہ پر اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے۔ حافظ قرآن کو میڈیکل داخلہ میں اضافی نمبر دینے کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں جسٹس قاضی فائزعیسی کا اپنے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ کی کارروائی پر اعتراض تفصیلی نوٹ کی شکل میں جاری کردیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عشرت علی نے 4اپریل کو خود کو غلط طور پر رجسٹرار ظاہرکیا، عشرت علی کو 3اپریل 2023 کو نوٹیفکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت نے واپس بلایا لیکن انہوں نے وفاقی حکومت کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین سپریم کورٹ کو وجود میں لاتا ہے اور یہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہے، 29 مارچ 2023 کے حکمنامے نے آئینی اور قانونی حیثیت واضح کی تھی اور یہ کہ چیف جسٹس اپنے لیے یکطرفہ طور پر سپریم کورٹ کے تمام اختیارات حاصل نہیں کر سکتے۔

اس موقع پر مذکورہ حکمنامے کے فقرہ نمبر 27 اور 28 پیش کیے گئے جہاں فقرہ 27 میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دے سکتے جس نے ان امور کو طے کرنے کے لیے انہیں یکطرفہ اور اپنی مرضی کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تمام ججوں کی جانب سے اجتماعی طور پر تعین کا کام کوئی فرد اپنے طور پر نہیں کر سکتا خواہ وہ فرد چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہوں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔