اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی تاہم ایک رکن اسمبلی نے قرارداد کی مخالفت کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بلوچستان سے رکن اسمبلی بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش کی۔قومی اسمبلی نے خالد مگسی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کر لی تاہم پاکستان تحریک انصاف کے محسن لغاری نے قرارداد کی مخالفت کر دی۔
رکن اسمبلی پی ٹی آئی محسن لغاری کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں، ہم خطرناک راستے پر چل رہے ہیں، کیا ہم سپریم کورٹ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، یہ جنگ بہت خطرناک ہو گی۔
محسن لغاری کا کہنا تھا ایسی قراردادیں جوش کی بجائے ہوش سے منظور کی جائیں، سپریم کورٹ نے 90 دن کے اندر الیکشن کا فیصلہ کیا ہم اس پر تنقید کر رہے ہیں، ایوان کی 90 فیصد کارروائی عمران خان پر تنقید پر مبنی ہوتی ہے، عمران ایوان میں نہیں پھر بھی اعصاب پر سوار ہے۔
پی ٹی آئی رکن محسن لغاری نے ایوان میں احتجاج بھی کیا اور کہا کہ مجھے اس قرارداد پر بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، اپوزیشن کی مخالفت کی جائے تو اسے بولنے کا موقع دیا جاتا ہے، ہمیں ووٹنگ سے پہلے اپنا کیس ایوان میں پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔
