چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک لاہور میں پولیس آپریشن جاری ہے۔
پولیس نے گیٹ کو توڑ کر عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھرا سے 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
اس سے قبل پولیس نے زمان پارک کے قریب سے رکاوٹیں ہٹادیں جبکہ تحریک انصاف کے 15 کارکنان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہیں۔
4ایس پیز اینٹی رائٹ فورس کو لیڈ کررہے ہیں جبکہ پولیس کے ایک ہزار جوان آپریشن میں شامل ہیں۔
پولیس نے 4 قیدی وینز، دو کرینز اور دیگر مشینری مال روڈ چوک میں کھڑے کردیے جبکہ اینٹی رائٹ فورس کی بھاری نفری بھی مال روڈ پر تعینات کر دی گئی۔
یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں پیشی کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان زمان پارک لاہور سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے، ان کے ہمراہ کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔
ایک ٹوئٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے زمان پارک میں ان کیگھر پر حملہ کیا ہے، زمان پارک کیگھر میں بشری بیگم اکیلی تھیں، یہ کس قانون کے تحت کر رہے ہیں؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ لندن پلان کا حصہ ہے، نواز شریف کا مطالبہ ہے کہ مجھے جیل میں ڈالا جائے تاکہ الیکشن میں حصہ نہ لے سکوں۔
پولیس نے زمان پارک اور اطراف کے علاقوں کو کنٹینر اور بیرئیر لگا کر بند کر دیا ہے، دھرم پورہ ، ریلوے پھاٹک اور گڑھی شاہو جانے والے راستے بھی بند ہیں، شہر کے مختلف راستے بند ہونے سے عوام پریشان ہیں۔
خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لیے زمان پارک لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔
گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو زمان پارک میں 14 اور 15 مارچ کو ہونے والے واقعات میں تفتیش کے لیے رسائی کی اجازت دی تھی۔
پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کا کنٹرول سنبھال لیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
