سابق وزیرِ داخلہ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ عمران کی سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اگر ان کو کچھ ہوتا ہے تو پورا خطہ اس سے متاثر ہوگا۔
ایک انٹرویو میں اعجاز شاہ نے وزارتِِ داخلہ سے اپنی برطرفی کو سکیورٹی وجوہات کے بجائے کوئی اور وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔
بریگیڈیئر اعجاز شاہ کے مطابق عمران خان کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ وہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ عمران خان پر پہلے ہی قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے۔ وہ تو ان کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بچ گئے۔ لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا، بے نظیر کو مارا دیا گیا اس لیے عمران خان کی سیکیورٹی ریاست کا فرض ہے۔
اعجاز شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت جنرل باجوہ کے کورٹ مارشل سے متعلق مطالبہ عمران خان نے کیا ہے لہذا اس کا جواب بھی انہی سے لیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو کسی ڈیل کے تحت واپس نہیں کیا گیا تھا۔ ہندوستان نے پاکستان کی فضائی حدود کو پار کرکے اپنا غصہ دکھایا تھا، جس پر پاکستانی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے بھرپور جواب دیا تھا۔
اعجاز شاہ کے مطابق عمران خان اور فورسز نے جذبہ خیر سگالی کے طور ابھی نندن کو واپس کیا تھا نہ کہ کسی ڈیل کے تحت ان کے پائلٹ کو واپس کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب 9/11 کا واقع ہوا تو اس خطے کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ نیٹو ممالک نے یہ سمجھا کہ افغانستان باقی دنیا کو خراب کرے گا۔ افغانستان میں 10، 15 سال جنگ رہی ہے جس سے اس خطے کی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔
افغانستان میں اس وقت جو بچہ پیدا ہوتا تھا اس نے اذان کی آواز تو بعد میں سنی پہلے گولیوں کی آواز سنی۔ افغانستان میں اگر صورتحال بہتر ہوجائے تو افغانستان سے زیادہ پاکستان کو فائدہ ہے۔
پاکستان کے حالات 1979 میں اس وقت خراب ہوئے جب روس افغانستان میں آیا۔ مغربی ممالک نے سمجھا روس سمندروں کے راستے تلاش کررہا ہے اور پھر پاکستان نے امریکا کے کہنے پر پراکسی جنگ لڑی۔ اس وقت پہلی مرتبہ پاکستان کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوئے۔
اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو پورا خطہ متاثر ہوگا، بریگیڈیئر اعجاز شاہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
