اسلام آباد(سب نیوز) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرشہزاد وسیم نے کہا ہے کہ ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے لیکن حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔اس ملک کے وزیر دفاع کا حال دیکھ لیں کہہ رہے ہیں ملک ڈیفالٹ ہو چکا ہے تو سوال یہ ہے کہ وزیر دفاع ڈیفالٹ کر رہے ہیں تو وزیر خزانہ کہاں ہیں؟
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو سنگین خطرات کا سامنا ہے، ایک جانب خطرات ہیں تو دوسری طرف آڈیو کی مارکیٹس گرم ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد کی گفتگو کو تروڑمرو کر پیش کیا گیا اور اس سے پہلے شوکت ترین کی گفتگو کو لیک کر کے پیش کیا گیا، اب ججوں اور دیگر لوگوں کی آڈیو لیکس کی جا رہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس قانون کے تحت آڈیو لیکس کی جا رہی ہیں؟اسطرح کی چیزوں سے قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کردار آئینی اور الیکشن کروانا ہے لیکن الیکشن کمیشن الیکشن کی بجائے پرچے درج کروانے میں مصروف ہے۔ریاست کے کسی فرد پر یہاں غداری کے مقدمے درج ہو جاتے ہیں لیکن ایک وزیر کی صدر پاکستان کے بارے گفتگو کو دیکھا جائے تو یہاں ریاست کے سربراہ کے بارے میں نازیبا گفتگو کی جا رہی ہے اور ریاست کےسربراہ کوگالی بھی دیں تومقدمہ درج نہیں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک کے وزیر دفاع کا حال دیکھ لیں کہہ رہے ہیں ملک ڈیفالٹ ہو چکا ہے تو سوال یہ ہے کہ وزیر دفاع ڈیفالٹ کر رہے ہیں تو وزیر خزانہ کہاں ہیں؟اس ملک میں ایک سرکس لگا ہوا ہے اور پی ٹی آئی آئین و قانون کیلئے کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
