اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر سنٹرل کمیٹی و انچارج پیپلز لیبر بیورو چوہدری منظور احمد نے کہا ہے کہ اس ملک کا المیہ اس وقت یہ ہے کہ نہ سیاست ہو رہی ہے اور نہ عدالت ہو رہی ہے۔ نا ہی صحافت ہو رہی ہے، نہ ہی حفاظت ہو رہی ہے اور نہ ہی معیشت چل رہی ہے۔ بحران ریاست کے اندر داخل ہو کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ حکمران طبقے کے تمام کے تمام حصے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے ہی طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے بھی کوئی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اسد عمر،حفیظ شیخ،شوکت ترین،مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار کے پاس ایک ہی نسخہ ہے کہ غریبوں پہ اور امیروں کو چھوٹ۔ وہ سارا بوجھ بلواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں عام عوام اور غریب طبقات پر ڈال رہے ہیں۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہو گا جہاں غریبوں سے ٹیکس لیکر امیروں کو دیا جا رہا ہے۔ یہاں ویلتھ ٹیکس تک نہیں لگایا جا سکتا،جو سپر ٹیکس ایک دفعہ کے لئے لگا تھا وہ بھی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا۔ آئی ایم ایف کے دبا میں ٹیکسوں کی بھرمار اور بجلی، تیل ،گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے لوگوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مہنگائی میں بے پناہ اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
چین نے گذشتہ تین دھائیوں میں کروڑوں لوگوں کو خط غربت سے نکالا ہے جبکہ پاکستان کے حکمرانوں نے اسی عرصے میں کروڑوں لوگوں کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ سرمایہ داری کے تمام حربے اور تمام مہرے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اس بحران سے روایتی طریقوں سے نہیں نبٹا جا سکتا۔ غیر روایتی اور انقلابی طریقے اپنانے ہوں گے۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی اقتصادی پالیسیوں کو جدید زمانے سے ہم آہنگ کرکے لاگو کرنا ہوگا۔ملک،سماج اور معیشت کو اس وقت 5 اداروں اور 50 خاندانوں نے جکڑا ہوا ہے۔ جب تک اسے ان اداروں اور خاندانوں کے چنگل سے آزاد نہیں کروایا جاتا تب تک محنت کش عوام کا استحصال یونہی جاری رہے گا۔
