ہومتازہ ترینکراچی پولیس چیف آفس پر حملہ ناکام ، تمام دہشت گرد مارے گئے

کراچی پولیس چیف آفس پر حملہ ناکام ، تمام دہشت گرد مارے گئے

کراچی (سب نیوز )شہر قائد کے علاقے شاہراہ فیصل پر قائم کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا، جس کے دوران 3 دہشت گرد مقابلے میں ہلاک ہوئے جبکہ ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
پولیس حکام کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت خاکروب جاں بحق ہوا جبکہ ڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 17زخمی ہوئے، جن میں رینجرز اہلکاروں کی تعداد 9ہے جبکہ ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی معروف شاہراہ شارع فیصل کے انتہائی حساس علاقے میں قائم کراچی پولیس کے دفتر پر 8 سے 10 دہشت گرد شام سوا سات بجے کے قریب داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کر کے شاہراہ فیصل کو عام ٹریفک کیلیے بند کیا گیا جبکہ دفتر کی بجلی بھی منقطع کی گئی۔دہشت گردوں کے کے پی آفس میں داخل ہونے کے بعد شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جس پر ہینڈ گرینیڈ مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے جوابی فائرنگ بھی کی جبکہ دیگر تھانوں سے نفری بھی طلب کی اور اہلکار مورچہ زن ہوئے۔
علاوہ ازیں پولیس کمانڈوز، رینجرز اور پاک فوج کے دستے بھی کلیئرنس آپریشن کیلئے پہنچے۔ذرائع نے بتایا کہ چار دہشت گرد نیچے جبکہ اتنے ہی چھت پر مورچہ زن تھے، جو کلیئرنس آپریشن کیلیے داخل ہونے والے اہلکاروں پر فائرنگ اور کریکر پھینک رہے تھے۔ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر نے تصدیق کی کہ رات دس بجے کے قریب کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا، اس دوران تین دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے جبکہ چوتھی منزل پر ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ چھت پر دو جبکہ چوتھی منزل پر ایک دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران سندھ رینجرز کے 8 جوان جبکہ سندھ پولیس کے 7 اہلکار زخمی ہوئے۔ ایک پولیس اہلکار، رینجرز جوان نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ایک خاکروب بھی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔کلیئرنس آپریشن میں پاک فوج، رینجرز، پولیس، ایس ایس یو اور سی ٹی ڈی کی ٹیم نے حصہ لیا۔جناح اسپتال انتظامیہ کے مطابق اب تک دو لاشیں اور گیارہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں 9 رینجرز اہلکار، ڈی ایس پی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ حاجی رزاق، اہلکار اور ایدھی رضاکار ساجد شامل ہے۔جناح اسپتال منتقل کی گئی دو لاشیں پولیس اہلکاروں کی ہیں، جن کی شناخت اجمل مسیح اور غلام عباس کے نام سے ہوئی، اجمل مسیح خاکروب جبکہ غلام عباس پولیس اہلکار ہے۔
عمارت میں موجود پولیس کے اعلی افسران اور اہلکاروں کو سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو کیا گیا، جن میں سے کچھ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ڈی آئی جی مقدس حیدر نے عمارت کلیئر ہونے کا دعوی کیا تو وہاں موجود اہلکاروں نے نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، سندھ پولیس زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کے پی آفس پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار دہشت گردوں سے مقابلہ کررہے ہیں جبکہ رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ چکی ہے۔ڈی آئی جی ساتھ عرفان بلوچ نے کہا ہے کہ کم از کم چھ دہشت گرد پولیس آفس کی عمارت میں موجود ہیں ابتدائی اطلاع ہے کہ دہشت گرد عقبی راستے سے داخل ہوئے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ چکی ہے کوشش ہے کہ جلد از جلد دہشت گردوں زندہ یا مردہ گرفتار کیا جائے۔اطلاعات ہیں کہ رینجرز کیو آر ایف نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراو کیا اور پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ ترجمان رینجرز سندھ کا کہنا تھا کہ آٹھ سے دس دہشت گردوں نے پولیس آفس پر حملہ کیا ہے جنہیں پکڑنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔آئی سندھ سندھ غلام نبی میمن نے تصدیق کی کہ کلیئرنس آپریشن کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جیز کے دفتر پر مبینہ حملے کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈی آئی جیز کو اپنی زون سے ضروری پولیس فورس بھیجنے کی ہدایت کردی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر ایڈیشنل آئی جی کے دفتر پر حملے کے ملزمان گرفتار چاہئیں، کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے بعد متعلقہ افسر سے واقعے کی رپورٹ چاہیے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پولیس آفس میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے، پولیس دہشت گردوں کی پوزیشن کا تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے، پولیس آفس پر دستی بم پھینکنے کے بعد دہشت گرد اندر گھسنے میں کامیاب ہوئے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن کیلئے خصوصی فورس بھیجنے کا بھی حکم دیا۔گورنر سندھ نے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ گہری سازش ہے، کسی کو بھی امن وامان کی صورتحال خراب نہیں کرنے دیں گے، عوام کے تعاون سے مٹھی بھر دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پریشان نہ ہوں تھوڑی دیر میں اس جگہ کا دورہ کروں گا۔وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کا حملہ افسوس ناک ہے، دہشت گردوں نے سندھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا ہے، وزیر اعلی سندھ آپریشن کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز تیار ہے، دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے رپورٹ طلب کرلی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا اور شاباش دی۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کلین اپ میں وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہوگا، دہشت گردوں نے ایک بار پھر سے کراچی کو نشانہ بنایا ہے ، بزدلانہ کارروائیوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارادے اور عزم کو توڑا نہیں جا سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم پولیس اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہباز شریف نے واقعے میں زخمی ہونے والوں کی صحت یابی کی دعا بھی کی۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کھڑی ہے، دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی پولیس آفس پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر ہونے والے ہر حملے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ملک دشمن عناصر کسی صورت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بھی کراچی پولیس آفس پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں کو دہشتگردوں کے خلاف منضم آپریشن کی ہدایت کردی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ہر مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے جرات مندانہ کردار ادا کر رہے ہیں، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔