سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ جس لیول کا ڈیزاسٹر ہے بین الاقوامی برداری نے اس طرح کردار ادا نہیں کیا ،اگر کوئی ترقی یافتہ ملک بھی ہوتا تو وہ بھی مشکلات کا شکار ہوجاتا ،پاکستان تو ایک غریب اور معاشی طور پر کمزور ملک ہے ،برطانیہ میں سیاسی لیڈر اپنے ذاتی مفادات کو بعد میں رکھتے قوم اور ملک کے مفادات سپریم رکھتے ہیں ،ان پر جب بھی مشکلات وقت آتا وہ اکھٹے ہوجاتے ہیں ،ہم کم از کم معاشی صورتحال پر تو ایک پیچ پر آسکتے ہیں ،ہم الزامات کی گیم سے باہر نہیں نکل رہے ،ہمیں سادگی اپنانا ہوگی پرچیز میں بچت کرنا ہوگی ،ہمارے لیڈر جب بھی باہر نکلتے ہیں گاڑیوں کے قافلے ان کے ساتھ ہوتے ہیں ،جب طرح ہم پھنسے ہوئے اس سے اکھٹے ہوکر نکلنے کی ضرورت۔سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس آفت کا اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتا ،پوری دنیا میں سیاستدان یا لیڈرز اپنے ذاتی مفادات اور پارٹی مفادات کو بعد میں رکھتے ہیں ،ملک کے مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھا جاتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری سرور نے کہا کہ جب بھی مشکل وقت آتا ہے بین الاقوامی لیڈرز سب اکٹھے ہوجاتے ہیں، اس وقت پاکستان معاشی صورتحال میں بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم معذرت کے ساتھ الزامات کی سیاست سے باہر نہیں آرہے ہیں، ہم نے سابق دور پر الزام لگائے اور موجودہ حکومت نے سابقین پر ،اس طرح کے الزامات سے ملک آگے نہیں بڑھے گا، تمام سیاستدانوں کو ایک نکتے پر اکٹھا ہونا ہوگا ،ہم نے سادگی کی بجائے پروٹوکول کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آج توانائی بحران کا سامنا ہے ،50 ملین ڈالرز کے ڈیفیسٹ کے ساتھ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اس حوالے سے حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔چودھری سرور نے کہا کہ میں نے اخبارات کے ذریعے پڑھا کہ میں پارٹی بنا رہا ہوں ایسا کچھ نہیں ہے ،میرے ساتھ کچھ سیاسی لوگ ضرور رابطے میں ہیں مگر ابھی تک کسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا ،یوسف رضا گیلانی اور محمد احمد محمود نے کھانے پر مدعو کیا تھا وہ میرے پرانے دوست ہیں ،سیاستدان اکٹھے ہوں تو سیاسی باتیں ہوتی ہیں مگر ابھی تک کسی جماعت میں جانے کا فیصلہ نہیں ہوا ،عمران خان کیساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے، میں ہمیشہ ہواں کے رخ کے برعکس کھڑا ہوا ہوں ،میں نے جب ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی جوائن کی تو اس وقت سوچ تھی کہ پڑھا لکھا اور نیا پاکستان بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر کے پاس آئینی اختیارات ہوتے ہیں میں نے کووڈ 19 میں بڑا کام کیا تھا مگر بہت سے شعبوں میں کام نہیں کرسکے،پنجاب میں ساڑھے تین سال پولیس اصلاحات نہیں کی جاسکیں۔
چوہدری سرور نے نئی جماعت بنانے کی خبروں کی تردید کردی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
