پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں کمی آرہی ہے یہ رجحان اس لحاظ سے تو حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کو تیل کی درآمد کم کرنی پڑے گی لیکن دوسری جانب تیل پر ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف بھی متاثر ہورہے ہیں جب کہ دوسری جانب یہ رجحان ملک میں اقتصادی سرگرمیاں سست ہونے کی نشاندہی بھی کررہا ہے۔
آئل کمپنیز ایسوسی ایڈوائزری کونسل کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ماہ دسمبر میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت 13 لاکھ 40 ہزار ٹن رہی جواس سے پچھلے ماہ نومبر کے مقابلے میں 14 فیصد اور دسمبر 2021کے مقابلے میں 11فی صد کم ہے۔جب کہ رواں مالی سال کے پہلے ششماہی یعنی جولائی تا دسمبر 2022 کا جائزہ لیا جائے تو اس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 19فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق کرونا وائرس وبا کے سبب ملک میں پہلے لاک ڈاون فروری مارچ 2020کے بعد دسمبر 2022 میں سب سے کم ماہانہ تیل فروخت ہوا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں موسمی اثر شامل ہے۔
عام طور پر موسم سرما میں تیل کی فروخت میں کمی آتی ہے خاص طور پر بجلی کی طلب کم ہونے کے پیش نظر فرنس آئل کی ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے، تاہم اس بار اس موسمیاتی اثرات کے ساتھ کاروباری کساد بازاری بھی شامل ہوگئی ہے۔مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں ماند ہیں جس کی وجہ سے تیل کی طلب میں کمی دیکھی جارہی ہے۔دسمبرکے مہینے میں پٹرول کی فروخت میں 11فیصد،ڈیزل کی فروخت میں 15فیصد اور فرنس آئل کی فروخت میں 3فی صد ماہانہ کمی آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے ششماہی کے دوران سب سے زیادہ کمی فرنس آئل کی فروخت میں آئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 24فیصد کم ہے فرنس آئل کی فروخت میں کمی کی وجہ فرنس آئل کی قیمت بڑھنے کے سبب فرنس سے چلنے والے بجلی گھروں کی کم بجلی پیدوار ہے
اس کے علاوہ پہلی ششماہی کے دوران ڈیزل کی فروخت میں بھی 23 فیصد کمی آئی ہے اور پیٹرول کی فروخت 15 فیصد کم ہوگئی ہے۔کمپنیوں کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پی ایس او کے تیل فروخت میں ماہانہ 23فیصد، اٹک پیٹرولیم کے فروخت میں 9 فیصد،شیل کے فروخت میں 4 فیصد کمی آئی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 20فی صد کمی متوقع ہے۔
