اسلام آباد(سب نیوز) انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی،عمران خان عدالت پہنچ گئے۔
۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت انسداد دہشتگری عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان روسٹرم پر موجود ہیں۔
بابر اعوان نے سیکورٹی کی بنیاد پر عمران خان کی گاڑی احاطہ جوڈیشل کمپلیکس میں داخل کرنے کی استدعاکی ۔عدالت نے عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔جج کا کہنا تھا کہ آپ پہلے کہتے ہم اجازت دے دیتے۔بابراعوان نے کہا کہ روز مختلف تنظیموں کی جانب سے تھرٹ ملتا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں،کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے؟تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان شامل تفتیش نہیں ہوئے،3 مرتبہ نوٹس جاری کیے، عمران خان کا وکیل کے ذریعے جواب آیا ہے۔
جج نے استفسار کیا کہ یہ سارا کیس ہی بیان پر ہے، کیا اس کو ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے،تفتیشی افسر نے بتایا کہ عمران خان شامل تفتیش ہی نہیں ہوئے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا
اس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ اس سے تو آپ کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،جے آئی ٹی کی کیا صورتحال ہے؟تفتیشی افسر نے بتایا کہ جے آئی ٹی تو بنی ہوئی ہے۔جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ بھی دیکھ لیجئے گا مقدمہ کے اندراج کو کتنے دن ہوگے،جے آئی ٹی کو بھی دیکھ لیجئے گا کتنے دن بعد بنی، تاخیر سے تو نہیں بنی، کیا جے آئی ٹی کیوجہ سے 30 دنوں تک ضمانت زیرالتواء رکھی جائے گی ۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم آئے اور تفتیش کو جوائن کرے، جج نے سفسارت کیا کہ اب یہ آئے اور جائے یہ کدھر لکھا ہے،۔عدالت نے بابر اعوان کو آج دلائل دینے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کیس کی وجہ سے دیگر کیسز زیرالتوا رکھنے پڑتے ہیں، ملزم کو لے آئیں تاکہ دلائل مکمل ہو سکیں۔
بابر اعوان نے کہاکہ مجھے سیکورٹی خدشات ہیں، مجھے پولیس پر اعتماد نہیں پہلے ہی پاکستان کے وزرائے اعظم مارے جا چکے ہیں، ابھی تک پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی، آپ یہاں پر کہیں عمران خان شامل تفتیش ہو جائینگے۔عدالت نے عمران خان کو 11 بجے طلب کیا تھا۔
