اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا میں کالج کی تعمیر کیلئے درخت کاٹ دیئے گئے، جس پر عدالت نے کہا کہ کالج کسی اور جگہ پر بھی بن سکتا ہے۔سپریم کورٹ میں سوات میں ڈگری کالج کی تعمیر کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے کالج کی تعمیر کیلئے درختوں کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ کالج کیلئے زرعی زمین کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کالج کی تعمیر سے پہلے ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ نہیں لی گئی۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کالج کی تعمیر کیلئے سائٹ پر 452 درخت کاٹ دئیے گئے۔ سوات کی خوبصورتی کو بحال کریں۔ کالج کسی اور جگہ پر بھی بن سکتا ہے۔ سوات کی خوبصورتی یہی ہے کہ ایک طرف دریا اور ایک طرف سڑک گزرتی ہے۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سوات میں درختوں پر لگے پھل خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔ دس سال پہلے جو حالات ہوئے، اس میں سب سے پہلے درخت کاٹے گئے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے درختوں کی کٹائی کا اعتراف کرلیا کرتے ہوئے کہا کہ ایک درخت کے بدلے 100 درخت لگائیں گے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی عدم حاضری پر سماعت دو ہفتوں کئے ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ : خیبر پختونخوا میں کالج کی تعمیر کیلئے 452 درخت کاٹنے کا انکشاف
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
