Saturday, May 9, 2026
ہومپاکستاننیب کا من گھڑت خبر شائع کرنے پر انصار عباسی کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ

نیب کا من گھڑت خبر شائع کرنے پر انصار عباسی کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی احتساب بیورو(نیب) نے روزنامہ جنگ میں مورخہ29اپریل2022کو انصار عباسی کی شائع ہونے والی خبر بعنوان’نیب کی نئی چالبازی ،بروقت قلابازی کھا کر عمران خان کو نیا ہدف بنا لیا’کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مذکورہ خبر کو من گھڑت ،لغو ، بے بنیاد ،حقائق کے منافی ، کسی ثبوت اور نیب کا موقف لیے بغیر نیب کی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ تضحیک کرنے کی مذموم کوشش ہے جس کو نیب نہ صرف یکسر مسترد کرتا ہے بلکہ نیب نے انصار عباسی کے خلاف باقاعدہ طور پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے مرحلہ میں انہیں قانونی نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے اس کے علاوہ پیمرا اور کونسل آف کمپلینٹس میں بھی ان کے خلاف شکایت درج کروائی جائے گی جہاں قانون اپنا راستہ خود اپنائے گا ۔

قومی احتساب بیورو بدعنوانی کا ایک اعلیٰ ادارہ ہے جو ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر سختی سے یقین رکھتا ہے جس کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے ۔

واضح رہے کہ فرح خان کے خلاف انکوائری کا عمل نیب کے قانونی دائرہ کار میں واضح طور پر آتا ہے اور عمران خان کا بظاہر انکوائری سے کوئی تعلق نہیں لہذا نیا ہدف بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اگر جنگ گروپ کے انصار عباسی نے نیب آرڈیننس اور AMLA ACTکا بغور جائزہ لینے کے علاوہ مناسب تحقیق کی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ نیب نے انکوائری کی منظوری آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دی ہے ۔ نیب ہمیشہ آزادی صحافت کا احترام کرتا ہے مگر نیب کا موقف لئے بغیر من گھڑت ،حقائق کے منافی اور بے بنیاد خبر شائع کرنا اور نیب کے خلاف پراپیگنڈہ باعث افسوس ہے ، نیب ایک آزاد اور مختار اداریہ ہے اس کی تمام کارروائیاں بشمول مذکورہ بالکل آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے عمل میں لائی جاتی ہیں ، نیب نے میڈیا سے ایک بار پھر کہا ہے کہ نیب سے متعلق کسی بھی خبر کو نشر اور شائع کرنے سے پہلے ترجمان نیب سے نیب کا موقف لیا جائے جو کہ ذمہ دارانہ صحافت اور آئین اور قانون کا بھی تقاضہ ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔