اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان میں ترکمانستان کے سفیر ایچ ای اتادجان موولاموف نے پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا ہے۔
اسلام آباد میں ترکمانستان کے سفارت خانے میں پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کے لیے منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے سفیر اتادجان موولاموف نے کہا کہ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، جبکہ دونوں ممالک علاقائی اقتصادی روابط اور باہمی تجارت کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر 2026 میں ملک کی قومی ترقی، بین الاقوامی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔سفیر نے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن (تاپی) منصوبے کو پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے ترکمانستان کے گالکینش گیس فیلڈ سے قدرتی گیس جنوبی ایشیائی منڈیوں تک پہنچائی جائے گی۔ گالکینش گیس فیلڈ میں قدرتی گیس کے ذخائر کا تخمینہ تقریبا 27 ٹریلین مکعب میٹر لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاپی منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کو توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور صنعتی، تجارتی و گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ترکمانستان کے سفیر نے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ بجلی کی ترسیل کے منصوبے (ٹی اے پی)کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت افغانستان کے راستے پاکستان کو 3 ہزار میگاواٹ تک بجلی فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تاپی منصوبے کے روٹ کے ساتھ 1,635 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک کمیونیکیشن لائن بچھانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس سے پاکستان، افغانستان اور دیگر خطوں کے درمیان ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن روابط کو فروغ ملے گا۔
سفیر موولاموف نے علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2024 میں تاپی گیس پائپ لائن کے سرحد آباد تا ہرات سیکشن کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا۔ اسی دوران تورغندی تا سنابار ریلوے سیکشن پر بھی تعمیراتی کام شروع ہوا، جبکہ افغانستان کے صوبہ ہرات میں نورالجہاد پاور سب اسٹیشن کو ٹی اے پی منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت فعال کیا گیا۔انہوں نے اکتوبر 2025 میں ترکمانستان کے قومی رہنما اور خلق مصلحتی کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف کے دورہ افغانستان کا بھی حوالہ دیا، جس کے دوران سرحد آباد تا ہرات گیس پائپ لائن کے اگلے مرحلے کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔سفیر نے اگست 2026 میں ترکمانستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے اعلی سطح کے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں تاپی گیس پائپ لائن، علاقائی ٹرانسپورٹ کوریڈورز اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ترکمانستان کی ریاستی کمپنی ترکمان گیس اور افغانستان کی سرکاری کمپنی افغان گیس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔سفیر اتادجان موولاموف نے کہا کہ پاکستان ترکمانستان کی علاقائی رابطہ کاری کی حکمت عملی میں اہم مقام رکھتا ہے اور جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے ساتھ توانائی کی برآمدی راہداریوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے علاوہ ریلوے نیٹ ورک، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی روابط کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تاپی اور ٹی اے پی منصوبوں سمیت دیگر علاقائی رابطہ کاری کے اقدامات وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے، توانائی کے تحفظ اور مشترکہ اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔پریس بریفنگ میں ترکمانستان کے سفیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور علاقائی تعاون کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
