لاہور(سب نیوز) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی روایتی مصنوعات، ثقافتی ورثے اور ہنرمند افرادی قوت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برآمدات، تجارت اور عالمی معاشی روابط کے حوالے سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں نیویارک چیمبر آف سمال بزنس کارپوریشن کے دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے دفتر کے افتتاح پر انتظامیہ کو مبارکباد دی اور اس اقدام کو کاروباری روابط کے فروغ اور پاکستان کی تجارتی رسائی کو عالمی سطح پر وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان روایتی مصنوعات اور ہنرمند افرادی قوت کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں موثر انداز میں عالمی منڈیوں میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ملک کی روایتی دستکاریوں، جن میں کڑھائی، نیلی مٹی کے برتن (بلیو پاٹری)، سرامکس، کھسے، سندھی اجرک اور سرائیکی خطے کی روایتی اجرک شامل ہیں، کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مصنوعات پاکستان کی بھرپور ثقافتی شناخت کی عکاس ہیں اور ان کی برآمدات اور عالمی سطح پر تشہیر کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بالخصوص اجرک سے تیار کردہ ملبوسات، بشمول شرٹس، کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دیگر ممالک نے بھی اپنی روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو کامیابی سے عالمی سطح پر فروغ دیا ہے۔
ملتان کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ پانچ ہزار سال سے زائد پر محیط ہے۔ انہوں نے ملتان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کا تقابل دمشق جیسے قدیم تاریخی شہر سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کی نیلی مٹی کی مصنوعات، سرامکس اور روایتی دستکاری عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعارف اور پذیرائی کی مستحق ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے عالمی منڈیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان عالمی روزگار کی منڈی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، بالخصوص تکنیکی، پیشہ ورانہ اور سافٹ ویئر سے متعلق شعبوں میں ان کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثر تربیت، مہارتوں کی ترقی اور بین الاقوامی تجربات کے مواقع فراہم کرکے نوجوان پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے نئے راستے کھولے جا سکتے ہیں، جو ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹیز اور کاروباری تنظیموں، بالخصوص امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے مضبوط پیشہ ورانہ نیٹ ورکس اور مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ روابط پاکستانی مصنوعات کے فروغ، تجارتی سرگرمیوں میں سہولت اور پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے موثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ اپنا کی گراں قدر خدمات کو بھی سراہا اور صحت عامہ، طبی تعلیم، تحقیق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خدمات کی فراہمی میں اس کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی طبی ماہرین پاکستان کے بین الاقوامی روابط مضبوط بنانے اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کوالالمپور میں قائم گلوبل مسلم بزنس فورم کے ساتھ اپنی وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کاروباری نیٹ ورکس کے ساتھ روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے سے پاکستان کے لیے معاشی اور تجارتی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابیوں، ثقافتی تنوع، کاروباری صلاحیتوں اور مثبت عالمی کردار کو بین الاقوامی سطح پر مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے چیلنجز سے آگے بڑھتے ہوئے اقوام کے درمیان امن اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثر سہولت کار اور ثالث کا تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ کاروباری برادریوں، بین الاقوامی اداروں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے درمیان مسلسل روابط اور تعاون سے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص مزید مستحکم ہوگا اور تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
