اسلام آباد:(سب نیوز) ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسلام آباد سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ میں زمین کی لیز سے لے کر تعمیرات، اپارٹمنٹس کی فروخت اور مالی معاملات تک متعدد مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سابق افسران سمیت مختلف شخصیات کے کردار اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لیز اور تعمیراتی شرائط میں تبدیلیوں، فائیو اسٹار ہوٹل کے منصوبے کو رہائشی اپارٹمنٹس میں تبدیل کرنے، بولی اور دوبارہ اشتہار کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے مختلف مراحل میں قواعد و ضوابط اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے دوران اہم معاملات سامنے آئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے میں سب لیز ہولڈرز سے 9 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کی گئی۔ جے آئی ٹی نے 254 اپارٹمنٹس کے سب لیز ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی، جس کے بعد 205 سب لیز ہولڈرز کو حقیقی قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں حقیقی خریداروں کے حقوق کے تحفظ اور اپارٹمنٹس کی قانونی حیثیت واضح کرنے کے لیے مزید اقدامات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بینک آف پنجاب کی جانب سے منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی ایک ارب 76 کروڑ روپے کی مالی سہولت کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جبکہ منصوبے کی مالی معاونت اور بینکنگ معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، ڈائریکٹر فیصل اعوان، سابق ممبر فنانس اظہر علی چوہدری، سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر (ر) نصرت اللہ، سابق ایڈیشنل لیگل ایڈوائزر رائے نواز کھرل اور عبدالحفیظ شیخ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں عبدالحفیظ شیخ اور بی این پی کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں میں بلیک لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سی ڈی اے میں زمین کی الاٹمنٹ اور لیز کے نظام میں اصلاحات، مستقبل میں ایسے منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
جے آئی ٹی نے اسلام آباد کے حساس علاقے میں واقع اس منصوبے کی سکیورٹی اور فائر سیفٹی سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں معاملے کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور اپارٹمنٹس کے حقیقی خریداروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
