ہوماسلام آبادپی ایف یو جے کی ملک گیر احتجاجی تحریک شروع، نیشنل پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرایا گیا

پی ایف یو جے کی ملک گیر احتجاجی تحریک شروع، نیشنل پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرایا گیا

اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)کی اپیل پر ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا گیا۔ اس سلسلے میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے)کے زیرِ اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور سیاہ پرچم لہرایا گیا۔ مظاہرے میں صحافی رہنماوں نے آزادی صحافت پر قدغنوں، پیکا قانون کے بے رحمانہ نفاذ، صحافیوں کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں، ہراساں کیے جانے، میڈیا ہاوسز سے جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صحافی برادری اپنے حقوق، آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن جدوجہد جاری رکھے گی۔ مظاہرے کا مرکزی پیغام تھا کہ 3 نومبر 2007 سے 3 نومبر 2026 تک حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ آزادی صحافت کو درپیش چیلنجز مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایف یو جے نے آج سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اگر آپ پاکستان میں شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں تو آپ کو صحافیوں کی اس جدوجہد کا ساتھ دینا ہوگا، کیونکہ یہ صرف صحافیوں کے روزگار یا پیشہ ورانہ حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات، جمہوری اقدار اور آئینی آزادیوں کے تحفظ کی جنگ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 10 نومبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جس کے بعد چاروں صوبوں سمیت ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا آخری مرحلہ اسلام آباد کی جانب ملک گیر مارچ ہوگا، جس میں پاکستان بھر کے صحافی دارالحکومت پہنچ کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ افضل بٹ نے کہا کہ ایک طرف پیکا قانون کے تحت صحافیوں کی زبان بندی اور آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب میڈیا ہاسز سے صحافیوں کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے۔ صحافیوں کو معاشی طور پر کمزور اور پیشہ ورانہ طور پر بے بس کرنے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ پی ایف یو جے ان تمام اقدامات کے خلاف ملک گیر سطح پر مزاحمت کرے گی اور اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ 3 نومبر 2007 کو نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے دوران صحافت پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں، آج کے حالات ان سے بھی زیادہ بدتر دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت بھی صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن آج مختلف طریقوں سے صحافیوں کی زبانیں بند کی جا رہی ہیں، آزادی اظہار کو محدود کیا جا رہا ہے اور اختلافی آوازوں کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا بنیادی فریضہ سچ عوام تک پہنچانا ہے، لیکن جب صحافی خوف، دبا، مقدمات اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوں تو اس کا نقصان صرف صحافیوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے اور جمہوری نظام کو ہوتا ہے۔ آزادی صحافت کسی حکومت یا ادارے کی عطا کردہ رعایت نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری حق ہے، جس کے تحفظ کے لیے صحافی برادری کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 3 نومبر کا دن پاکستان کی صحافتی تاریخ میں مزاحمت، قربانی اور جدوجہد کی علامت ہے۔ صحافیوں نے ہمیشہ آمریت، جبر اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے خلاف صفِ اول میں کھڑے ہو کر قربانیاں دی ہیں۔ آج ایک بار پھر صحافت کو مختلف محاذوں پر دبا کا سامنا ہے۔ پیکا قانون، گرفتاریوں، مقدمات، دھمکیوں اور معاشی مشکلات کے ذریعے صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ماضی کی طرح آج بھی اپنے اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے آزادی صحافت کا دفاع کرنا ہوگا۔ کسی بھی معاشرے میں آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت، شفافیت اور عوامی احتساب کا تصور ممکن نہیں۔

پی ایف یو جے کے سابق سینئر نائب صدر سلیم شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عوام تک سچ پہنچانے اور معاشرے کو باخبر رکھنے کی ایک بڑی قومی ذمہ داری ہے۔ جب صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی پر دبا، دھمکیوں اور مقدمات کا سامنا ہو اور میڈیا ورکرز کو تنخواہوں سے محروم رکھا جائے تو یہ پورے صحافتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے معاشی تحفظ، ملازمتوں کے استحکام اور آزادی اظہار کے لیے جدوجہد کو مزید منظم اور مثر بنانے کی ضرورت ہے۔ صحافی برادری کو کسی دبا میں آئے بغیر اپنے حقوق کے لیے متحد رہنا ہوگا۔آر آئی یو جے کے قائمقام صدر توصیف عباسی نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کا تحفظ پوری صحافی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں تنظیمی اتحاد اور عملی جدوجہد پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر آئی یو جے، پی ایف یو جے کی ملک گیر تحریک میں بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔آر آئی یو جے کے جنرل سیکرٹری راجہ بشیر عثمانی نے کہا کہ 3 نومبر 2007 کا یومِ سیاہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی صحافت کے لیے دی جانے والی قربانیاں ابھی تک مکمل طور پر بارآور نہیں ہو سکیں۔ آج بھی صحافیوں کو مقدمات، گرفتاریوں، ہراسانی، پیکا قانون کے دبا، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ صحافیوں کو معاشی عدم تحفظ میں مبتلا کرکے ان کی پیشہ ورانہ آزادی محدود نہیں کی جا سکتی۔ آر آئی یو جے پی ایف یو جے کی قیادت میں آزادی صحافت، صحافیوں کے روزگار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے گی۔

آر آئی یو جے کے سیکرٹری فنانس اظہار خان نیازی اور نائب صدر رشید ملک نے کہا کہ صحافیوں کے معاشی استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صحافیوں کو پیشہ ورانہ آزادی کے ساتھ باعزت روزگار اور بروقت تنخواہوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔نیشنل پریس کلب کے فنانس سیکرٹری عابد عباسی، آر آئی یو جے کے سابق صدر عامر سجاد، نیشنل پریس کلب کے سابق جوائنٹ سیکرٹری نیر علی، سابق سیکرٹری خلیل راجہ، نیشنل پریس کلب کی۔ جواہنٹ سیکرٹری شکیلہ جلیل، سابق نائب صدر این پی سی ماہرہ عمران، کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر عرفان سدوزئی اور ریبجا کے سیکرٹری جنرل شفیق چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے آزادی صحافت پر پابندیوں، صحافیوں کو درپیش معاشی مسائل اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کی مذمت کی اور صحافی برادری کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔اس موقع پر صحافیوں کے معروف شاعر سجاد لاکھا نے اپنی تازہ نظم پیش کی، جسے شرکا نے بھرپور داد دی۔

احتجاجی مظاہرے میں آر آئی یو جے کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری راجہ عمران جنجوعہ، ایگزیکٹو کونسل کے اراکین علی اختر، غفران چشتی، اسد شر، شہزاد راجپوت، حمید عباسی فرحان خان اور دوست محمد، نیشنل پریس کلب کے سنیر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی جواہنٹ سیکرٹری عون شیرازی جبکہ سینئر صحافیوں طارق چوہدری، عامر بٹ زاہد فاروق ملک جعفر بلتی پروفیسر سعید نعیم محبوب،راجہ جاوید اعجاز عباسی، طاہر شاہ علمدار حسین مقصود منتظر، عمران اعظم، راجہ عبدالمتین، عالم نور، راجہ کامران وقار چوہدری راجہ جاوید ظہور عالم محمد ادریس کھوکھر عبدالروف بزمی حسنین بنگش سمیت بڑی تعداد میں دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔پروگرام کے اختتام پر نیشنل پریس کلب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شرکا نے پیکا ایکٹ، میڈیا پر پابندیوں، صحافیوں کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کوئٹہ میں میڈیا ہاسز کے بیوروز کی بندش کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادی صحافت، صحافیوں کے معاشی تحفظ، ملازمتوں کے استحکام اور عوام کے حقِ معلومات کے دفاع کے لیے جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی اور پی ایف یو جے کی احتجاجی تحریک کو ملک گیر سطح پر کامیاب بنایا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔