اسلام آباد: ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس (“From Potential to Performance”) میں ملک کی معاشی صورتحال پرماہرینِ معاشیات کی سخت تنقید نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے پاکستان کی معیشت کوگزشتہ تین دہائیوں سے جمودکاشکار قرار دیتے ہوئے کہاکہ کمزور ادارے، تعلیم پر ناکافی سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولیوں کی کم شرح ملک کی معاشی پسماندگی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکی کمی کے باعث مزید پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔کانفرنس میں شریک معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر عاطف میاں نے بھی پاکستان میں اسٹریٹجک وژن کی کمی،اشرافیہ کی بالادستی،غیر مساوی معاشی ترقی اور داخلی امن کے قیام میں ناکامی کو بنیادی مسائل قرار دیا۔
ان کاکہناتھاکہ پاکستان اپنے توانائی بحران پر قابو پانے کیلیے ٹرانسپورٹ کے شعبے کوبجلی پر منتقل کرسکتاہے،تاہم طاقتورمفاداتی گروہوں کی مزاحمت اس راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی معیشت کی رکاوٹوں کے باعث کئی اہم فیصلے برسوں تک مؤخر ہوتے رہے، تاہم اب حکومت ایسے فیصلے کررہی ہے،جنہیں ماضی میں سیاسی طور پر مشکل سمجھاجاتا تھا، ان میں ٹیرف اصلاحات، زرعی آمدن پر ٹیکس اور سرکاری اداروں کی نجکاری شامل ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کی تیاریوں کے حوالے سے وزیر خزانہ کامؤقف ہے کہ ملک اس سمت میں اہم اقدامات کرچکاہے، پاکستان نے 2025 میں قومی مصنوعی ذہانت پالیسی منظورکی،جبکہ آئی ٹی برآمدات 4۔6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کااصل مسئلہ پالیسیوں، تجاویز یا مسائل کی نشاندہی کافقدان نہیں بلکہ ان پر عمل درآمدمیں ناکامی ہے، پاکستان کو وعدوں اور منصوبوں کے بجائے عملی اقدامات اورمؤثر عمل درآمدکی ضرورت ہے۔
