اسلام آباد (سب نیوز) روس کے سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل روس کے جائز سلامتی خدشات کو تسلیم کرنے، تمام فریقوں کے مفادات کا احترام کرنے اور سیاسی و سفارتی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس مذاکرات اور امن کے قیام کے لیے تیار ہے، تاہم پائیدار امن کی بنیاد انصاف، مساوی سلامتی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر ہونی چاہیے۔وہ جمعرات کو اسلام آباد میں منیر احمد کی کتاب ’’یوکرین کی جنگ: سرخیوں سے آگے، روس اور یوکرین کے بحران کا ایک متبادل بیانیہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔
روسی سفیر نے کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین تنازع کو محض نعروں اور سطحی تشریحات کے بجائے اس کے تاریخی پس منظر، بنیادی اسباب، جغرافیائی و سیاسی پہلوؤں اور عالمی معیشت پر اثرات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں سرکاری دستاویزات، اقوام متحدہ کی رپورٹس، بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات اور مختلف اعداد و شمار کی مدد سے تنازع کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔البرٹ خوریف نے کہا کہ کتاب میں نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع، 2014 کے یوکرین بحران، دونباس کی صورت حال، منسک معاہدوں اور یورپی سلامتی کے مستقبل سمیت اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے محققین، طلبہ اور بین الاقوامی امور میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم علمی کاوش قرار دیا۔
روسی سفیر نے اپنے خطاب میں یوکرین جنگ کے اسباب پر روسی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے سلامتی سے متعلق خدشات کو کئی دہائیوں تک نظرانداز کیا گیا، جبکہ نیٹو کی توسیع اور یوکرین کی اس اتحاد میں ممکنہ شمولیت نے یورپ میں سلامتی کے توازن کو متاثر کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2014 کے واقعات اور منسک معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکامی نے بحران کو مزید سنگین بنایا۔انہوں نے دسمبر 2021 میں روس کی جانب سے پیش کردہ سلامتی سے متعلق تجاویز مسترد کیے جانے، منسک معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور مارچ 2022 میں استنبول مذاکرات کے تعطل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان عوامل نے تنازع کے پُرامن حل کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اس صورت حال کی ذمہ داری نیٹو، یورپی یونین اور یوکرین کی قیادت پر عائد کی۔البرٹ خوریف نے مغربی ممالک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو جدید اور مہلک ہتھیاروں کی فراہمی سے جنگ طویل ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، یورپ کو صنعتی زوال، توانائی کی قلت اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ اختلافی آرا پر پابندیاں اور سیاسی آزادیوں میں کمی مغربی جمہوریتوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ روس کے مطابق یوکرین میں اس کے مقاصد میں اپنی سرحدوں کا تحفظ، یورپ میں مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے اصول پر مبنی نظام کا قیام اور روسی زبان بولنے والی آبادی کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے روسی کارروائیوں کو اپنے سلامتی کے مقاصد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے، تاہم سیاسی و سفارتی حل کے لیے بھی تیار ہے۔عالمی غذائی تحفظ اور روس کا کردارروسی سفیر نے یوکرین تنازع کے عالمی غذائی تحفظ پر اثرات کو بھی اپنے خطاب کا اہم حصہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ روس زرعی مصنوعات، توانائی اور کھادوں کا ایک اہم عالمی فراہم کنندہ ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی مسلسل رسد عالمی غذائی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے 2025-26 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عالمی گندم کی تجارت میں یوکرین کا حصہ تقریباً 7 فیصد جبکہ روس کا حصہ 23 فیصد ہے۔ ان کے مطابق، جَو کی عالمی تجارت میں یوکرین کا حصہ 5 فیصد اور روس کا 20 فیصد ہے۔البرٹ خوریف نے مزید دعویٰ کیا کہ یوکرین کی تقریباً 70 فیصد زرعی برآمدات یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غذائی تحفظ کو صرف یوکرین کی برآمدات سے منسلک کرنا درست نہیں اور روس کے خلاف پابندیاں، بالخصوص اس کی بحری تجارت کو محدود کرنے کی کوششیں، عالمی منڈیوں میں رسد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔بحیرہ اسود کے ذریعے اناج کی برآمدات کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس نے اس معاہدے میں نیک نیتی سے حصہ لیا، تاہم ان کے مطابق مغربی ممالک متعلقہ وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں معاہدہ ختم ہوا۔ انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو عالمی تجارت اور آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی روک تھام پر زور دیا۔پاکستان کے متوازن مؤقف کو سراہاالبرٹ خوریف نے یوکرین تنازع پر پاکستان کی قیادت کے متوازن مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے ’’مثبت غیر جانب داری‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے آزادانہ تجزیے، مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے عزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات کو دباؤ بڑھانے اور فریقین کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، روس پاکستان کے ساتھ توانائی، زرعی مصنوعات، کھادوں اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
روسی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور روس غذائی تحفظ، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، جبکہ ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔خطاب کے اختتام پر البرٹ خوریف نے امید ظاہر کی کہ منیر احمد کی کتاب قارئین کو یوکرین تنازع کے تاریخی پس منظر اور اس کے عالمی اثرات کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی کاوشیں حقائق پر مبنی مباحثے، مزید تحقیق اور بین الاقوامی امور کی بہتر تفہیم کے لیے اہم ہیں۔
