ہومپاکستانپاک چین دوستی اسپتال کا افتتاح، ملک بھر سے آنے والے مریضوں کا مفت علاج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

پاک چین دوستی اسپتال کا افتتاح، ملک بھر سے آنے والے مریضوں کا مفت علاج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاک چین دوستی اسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کا نام مستقل طور پر برقرار رہے گا اور یہاں ملک بھر سے آنے والے مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پاک چائنا فرینڈ شپ اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں عوام کی خدمت سے بڑھ کر کوئی قومی خدمت نہیں ہو سکتی اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو ہمیشہ دعائیں ملتی رہیں گی۔انہوں نے کا کہ یہ اسپتال ہمارے عزیز ترین دوست ملک چین کی حکومت اور عوام کی جانب سے تحفہ دیا گیا تھا، جو صدر شی جن پنگ کی دور اندیش اور فیاض قیادت کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ اقوام عالم کے مشترکہ اہداف اور مشترکہ مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ کووڈ کے دنوں میں یہ اسپتال بہت مفید ثابت ہوا، لیکن جیسے ہی کووڈ کا دور ختم ہوا، اس اسپتال کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا۔یہ رویہ ان متعدد افسوسناک کہانیوں میں سے ایک ہے جو ہمارے بے حس رویے اور عام آدمی، غریبوں، ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے ہماری عدم دلچسپی کا عکاس ہے۔کئی سال تک یہ اسپتال مکمل طور پر بند رہا اور ذرا تصور کریں کہ ہمارے چینی بھائیوں اور بہنوں کو اس اسپتال کے بارے میں کیسا محسوس ہوتا ہوگا جو ان کی محنت سے کمائے گئے وسائل سے تحفہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کوتاہی یعنی متعدد برس کے وقفے 2020 سے اب تک کے لیے معذرت خواہ ہوں۔وزیراعظم نے بتایا کہ جب مجھے اس اسپتال کے بارے میں معلوم ہوا تو یہ خبر مجھے ایک اخبار کے ذریعے ملی، کیونکہ میں اپنی میڈیا ٹیم کے ساتھ صبح سویرے اپنے دن کا آغاز کرتا ہوں۔
مجھے یہ چونکا دینے والی خبر دی گئی کہ اس اسپتال کے متعلق میں اس وقت بات کروں گا جب ہم اس اسپتال کو بحال کر کے اس کا افتتاح کریں گے۔چنانچہ میں نے فوری طور پر وزیر صحت سید مصطفی کمال کو اپنے دفتر بلایا اور انہیں یہ افسوسناک خبر دی اور واضح ہدایات دیں کہ اس اسپتال کو گزشتہ روز ہی بحال ہو جانا چاہیے۔وزیراعظم نے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان مریض خواہ مرد ہو یا عورت کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرے گی، لیکن انتظامی مقاصد کے لیے اس اسپتال کا انتظام آوٹ سورس کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 40 سال سے عوام کی خدمت کے شعبے سے وابستہ ہوں اور جانتا ہوں کہ ایسی سہولیات کا انتظام بہترین انتظامی اداروں کے سپرد کرنا ہی بہترین طریقہ کار ہے۔
مجھے پنجاب میں اپنے تجربے کی بنیاد پر معلوم تھا، ہم نے جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ میں طیب اردوان اسپتال ان کے سپرد کیا تھا، جو 2010 اور 2011 کی بات ہے اور یہ پاکستان کے بہترین اسپتالوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں ان لوگوں کو ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا، اس لیے میں نے بہترین ممکنہ افراد کی تلاش کی، اور مجھے ڈاکٹر باری اور انڈس اسپتال کے بارے میں بتایا گیا۔میرے دوست طیب اردوان کی طرف سے دیے گئے اس اسپتال سے آج ہزاروں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ملتان میں موجود اسپتال بھی میں نے ان کے سپرد کیا اور پھر لاہور کے 4 اسپتال بھی انہی کے حوالے کیے۔سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے اس اسپتال کا نام مارگلہ اسپتال رکھ دیا گیا تھا، جس پر میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ اس کا نام پاکستان چائنہ فرینڈ شپ اسپتال ہونا چاہیے۔ لہذا میں نے نام کی تختی تبدیل کر دی اور اب یہ ہمیشہ کے لیے پاکستان چائنہ فرینڈ شپ اسپتال رہے گا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر باری، میاں احسن اور ان کی ٹیم بلاشبہ مریضوں کو بہترین ممکنہ طبی خدمات فراہم کرے گی۔یہ خدمات صرف اسلام آباد کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ہوں گی، جہاں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، راولپنڈی اور دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی معیاری علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اس موقع پر چین کے سفیر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں بلکہ یہ ہر آنے والے دن بڑھتے جا رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔