تہران (سب نیوز)ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلی حکام اور ایرانی قیادت کے درمیان علاقائی سلامتی سے متعلق چار ملکی اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اجلاس پاکستان کی تجویز اور ایران کے تعاون سے منعقد ہوا، جس میں چاروں ممالک کے اعلی حکام نے شرکت کی۔
ایرانی وفد کی قیادت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کی۔پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی قومی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی، اس اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی، امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کے عوام کی امداد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں علاقائی رابطوں اور مشترکہ کوششوں کے لیے منعقد کیا گیا۔سعودی عرب کے مطابق، ایران کا دورہ موجودہ بحران میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شہزادہ خالد بن سلمان کا دور تہران علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مذاکرات اور امن کے قیام کے لیے سعودی عرب کی جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔بیان میں واضح کیا گیا کہ سعودی عرب کا یہ دورہ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے کیا گیا، جب کہ متعلقہ ممالک موجودہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت اور مشرقِ وسطی کو تقسیم کرنے کی امریکی حمایت یافتہ کوششوں کے خلاف اپنے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔تہران میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن کے ساتھ ہونے والے ایک اہم اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، سلامتی اور ترقی کے فروغ میں بھرپور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔اس موقع پر انہوں نے غزہ، لبنان، ایران اور خطے کے دیگر حصوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ایرانی صدر نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں نہیں ہے تاہم وہ جوہری عدم پھیلا کے معاہدے کے تحت اپنی پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کے حق پر پوری طرح قائم ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ تہران میں 4 فریقی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے گزشتہ دور ایران کے دوران پیش کی تھی، جسے ایرانی حکام نے قبول کرلیا۔انہوں نے کہا کہ ایران سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلی سطح کے وفود کی میزبانی کررہا ہے ۔ اس بات چیت کا مقصد علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات تلاش کرنا ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ اجلاس میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، لبنان میں پیش رفت اور ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات سمیت اہم علاقائی معاملات زیر بحث آئیں گے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ رابطے خطے کے ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقائی سلامتی کے موثر نظام کی تشکیل کی جانب ابتدائی قدم بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
