ہومبریکنگ نیوزافغان طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کا معاملہ: زلمے خلیل زاد کا ایک اور زہریلا پروپیگنڈا اور پاکستان کا جواب

افغان طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کا معاملہ: زلمے خلیل زاد کا ایک اور زہریلا پروپیگنڈا اور پاکستان کا جواب

کابل (آئی پی ایس )وزارت اطلاعات نے ہفتے کو سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے اس بے بنیاد اور گمراہ کن الزام کو مسترد کر دیا کہ پاکستان افغانوں کو طالبان سے لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔وزارت کا یہ جواب ایک دن بعد آیا جب خلیل زاد جنہوں نے پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایکس پر دعوی کیا کہ بہت سی رپورٹس ہیں کہ پاکستان افغانستان میں طالبان سے لڑنے کے لیے افغانوں کو مسلح کر رہا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے مزید الزام لگایا کہ پاکستان اب پاکستان مخالف باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغانوں کو بھرتی کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت زیادہ خراب ہونے کا امکان ہے۔وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک اکانٹ نے ایکس پر کہا کہ ان کے وسیع بے بنیاد دعوے محض قیاس آرائی پر مبنی بیانیوں کو دہراتے ہیں جو دہشتگردی کی حمایت کرنے والی طالبان حکومت کو سہارا دینے کے ان کے ذاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ زلمے خلیل زاد کی جانب سے ایسے غیر مصدقہ الزامات کو پھیلانا صرف ان کے جانبدارانہ ایجنڈے پر مبنی خیالات کو بے نقاب کرتا ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی افغان طالبان حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے اندر سے کام کرنے والی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جو اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہیں جائز انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کو افغان شہریوں کو بھرتی کرنے یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کے ساتھ خلط ملط کرنا خاص طور پر گمراہ کن ہے۔

بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہے اور اس نے علاقائی امن اور سلامتی کے تحفظ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ وزارت نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی جانے والی مسلسل مانیٹرنگ رپورٹس میں افغانستان کے اندر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔