اسلام آباد (سب نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب)کی مسلسل اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.2 ٹریلین (92 کھرب)روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کیے گئے۔ اس طرح سال 2026 کے دوران اب تک مجموعی طور پر 14.6 ٹریلین روپے مالیت کی قیمتی سرکاری اراضی اور دیگر اثاثے بازیاب کیے جا چکے ہیں۔پنجاب اور سندھ میں اسٹیٹ اثاثہ جات ٹاسک فورسز کی حوصلہ افزا کارکردگی کے بعد پاکستان ریلویز اور نیب کے اشتراک سے علاقائی بیوروز کی سطح پر چھ مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان ریلویز کی 235622 کنال (29453 ایکڑ)قیمتی اراضی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے ہے۔ یہ پاکستان ریلویز کی اراضی کی نشاندہی، واگزاری اور تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
اسی مہم کے تحت محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور محکمہ شاہرات سمیت مختلف صوبائی محکموں کی 866299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 2.395 ٹریلین روپے ہے۔ یوں تیسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 9.18 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب ہوئے، جو 2026 کی پہلی دو سہ ماہیوں میں ہونے والی 5.41 ٹریلین روپے کی مجموعی بازیابی کے مقابلے میں تقریبا 70 فیصد زیادہ ہیں۔ علاقائی بیوروز کی تفصیلات کے مطابق نیب سکھر کی جانب سے صوبائی محکمہ مال کی 51.41 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 1.14 ارب روپے ہے، اور کراچی ڈویژن کے اہم شہری علاقوں کے قریب واقع پاکستان ریلویز کی 179072 کنال اراضی، جس کی مالیت 5.06 ٹریلین روپے ہے، بازیاب کی گئی۔نیب بلوچستان کی جانب سے محکمہ جنگلات کی غیر قانونی قبضے میں موجود اور ناجائز طور پر زیرِ استعمال اراضی کی نشاندہی اور بازیابی کے سلسلے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے 811967 ایکڑ اراضی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 1.71 ٹریلین روپے ہے۔نیب ملتان کی جانب سے صوبائی محکمہ مال، محکمہ جنگلات اور محکمہ شاہرات کی 43028 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 102.97 ارب روپے ہے، جبکہ پاکستان ریلویز کی 49426 کنال اراضی، جس کی مالیت 1.56 ٹریلین روپے ہے، بازیاب کی گئی۔نیب لاہور کی جانب سے صوبائی حکومت کی 4380 ایکڑ قیمتی اراضی، جس کی مالیت 563.07 ارب روپے ہے، اور پاکستان ریلویز کی 7124 کنال اراضی، جس کی مالیت 156.10 ارب روپے ہے، بازیاب کی گئی۔
نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6872 ایکڑ اراضی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 16.16 ارب روپے ہے۔نیب اسلام آباد/راولپنڈی اور نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے بحریہ ٹاون اور کوہستان اسکینڈل سے متعلق مقدمات میں پلی بارگین کے ذریعے 2.22 ارب روپے بازیاب کیے گئے۔ متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے نیب نے تیسری سہ ماہی کے دوران 4280 متاثرین کے بینک اکاونٹس میں 908.42 ملین روپے منتقل کیے۔ مزید برآں، انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو موثر بنانے اور ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے نیب نے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جبکہ بین الاقوامی ہم منصب اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے مزید مفاہمتی یادداشتیں زیرِ غور ہیں۔ ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ضمن میں نیب نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی نظام نیب آئی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والی غلطیوں اور صوابدیدی عوامل کو کم کرنا اور کارروائیوں کی رفتار اور موثریت میں اضافہ کرنا ہے۔ اسی سہ ماہی کے دوران پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی نے تین خصوصی کورسز، استعدادِ کار میں اضافے کا ایک کورس، ایک ورکشاپ، ایک لرننگ پروگرام اور ایک پروموشنل کورس کے ذریعے افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ترجمان کے مطابق نیب بدعنوانی کے خلاف غیر متزلزل عزم کے تحت ریاستی مفادات کے تحفظ، عوامی وسائل کی حفاظت اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ ادارہ بدعنوانی کے انسداد کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں موثر قانونی کارروائی، انسدادی اقدامات، بدعنوانی کی روک تھام، ناجائز طور پر حاصل کیے گئے سرکاری اثاثوں کی بازیابی اور عوامی آگاہی میں اضافہ شامل ہے۔ ان مسلسل اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں مارچ 2023 سے ستمبر 2026 تک نیب نے مجموعی طور پر 26.1 ٹریلین روپے بازیاب کیے ہیں۔ نیب احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، شفافیت کے فروغ اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ و بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ادارے کی جاری کوششیں پاکستان میں جوابدہ، شفاف اور بدعنوانی سے پاک طرزِ حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
