اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمیشن میں منعقدہ ملائیشیا پاکستان بزنس انگیجمنٹ 2026: تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کا فروغ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے، دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب میں سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور اقتصادی امور سے وابستہ اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اس کا مقصد پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار کی سطح پر تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنا تھا۔ پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر سفیر داتو محمد اظہر مزلاں نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا اور اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان اور ملائیشیا کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات پر زور دیا۔ملائیشیا کے ہائی کمشنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی تجارتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کاروباری روابط میں اضافے اور نجی شعبے کی زیادہ فعال شرکت سے دوطرفہ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے دوطرفہ تجارت کو تقریبا ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر سے لے کر پانچ ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔سفیر داتو محمد اظہر مزلاں نے مصنوعی ذہانت، تعلیم، صنعت، اشیا اور خدمات کے شعبوں کو تعاون کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ ملائیشیا پاکستان کی اقتصادی صلاحیت اور تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لئے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع اور اس کی نوجوان آبادی کو مستقبل میں اقتصادی تعاون کے اہم اثاثے قرار دیا۔ خوردنی تیل اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں مواقع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کو ملائیشیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس ضمن میں ملائیشیا میں حلال جیلاٹن کی تیاری کے شعبے میں پاکستانی سرمایہ کاری کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کامیاب کاروباری شراکت داری کے امکانات کو اجاگر کیا۔
ہائی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے اقتصادی روابط باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی کے اصول پر استوار ہونے چاہئیں۔ انہوں نے پاکستان کو تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے ایک تزویراتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے میں ملائیشیا کی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اپنے خطاب میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر اور ہائی کمیشن کا دعوت دینے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادری اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ملائیشیا کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں سے خوشگوار تعلقات قائم ہیں اور وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ملائیشیا کی نمایاں پیشرفت کو سراہتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ قریبی تعاون کو مزید وسعت دے تاکہ دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔ملائیشیا کے ساتھ اپنے کاروباری تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ وہ متعدد مرتبہ ملائیشیا کا دورہ کر چکے ہیں اور ملائیشین کمپنی کے ساتھ چاول کی تجارت سمیت کاروباری معاملات میں بھی ان کا ذاتی تجربہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہِ راست کاروباری روابط اور پہلے سے قائم تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور دیرپا شراکت داریاں قائم کرنے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کی اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تقریبا 25 کروڑ آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کی بڑی صارف منڈیوں میں شامل ہے۔
ملک کی بڑی نوجوان آبادی صنعتی ترقی، جدت، کاروبار اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادیاتی قوت، تزویراتی محلِ وقوع اور کاروباری صلاحیت ملائیشیا کی جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی استعداد کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر مفید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی اور علاقائی رابطے کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی منڈیوں تک رسائی اور رابطہ کاری کی صلاحیت تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہیں علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا سمیت دیگر علاقائی منڈیوں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کے رکن ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پاکستان کی ثابت قدمی اور عالمی سطح پر اس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے مختلف چیلنجز کے دوران اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ امن اور استحکام کے فروغ میں اس کے کردار کو بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی روابط اور تزویراتی شراکت داریوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔مستقبل میں اقتصادی تعاون کے ممکنہ شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ویلیو ایڈڈ صنعتوں، کان کنی و معدنیات، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور حلال مصنوعات کو مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبے قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی تکنیکی مہارت اور صنعتی تجربہ پاکستان کے قدرتی وسائل، افرادی قوت، صارف منڈی اور ابھرتے ہوئے کاروباری مواقع کے ساتھ مل کر باہمی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایسی معیاری ملائیشین سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے جو صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنے۔ انہوں نے ملائیشین کمپنیوں کو پاکستان میں قابلِ عمل کاروباری مواقع تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ان کے کاروباری منصوبوں کی معاونت کرنے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیار ہے۔خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کراچی کے علاقے بن قاسم کی وسیع صنعتی صلاحیت کو اجاگر کیا جہاں تقریبا 6,000 ایکڑ اراضی صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز سرمایہ کاروں کو صنعتی یونٹس قائم کرنے، دستیاب مراعات سے فائدہ اٹھانے اور برآمدات پر مبنی کاروبار فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ملائیشین کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔وفاقی وزیر نے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے، ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان کی جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے تمام مراحل میں سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کا مقصد صرف نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا نہیں بلکہ موجودہ سرمایہ کاروں کو معاونت فراہم کرنا، ان کے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع پیدا کرنا اور طویل المدتی تجارتی تعلقات قائم کرنا بھی ہے۔وفاقی وزیر نے ملائیشین سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، مقامی شراکت داروں سے روابط قائم کرنے اور قابلِ عمل منصوبوں پر پیشرفت کے لئے ضروری سہولت اور معاونت فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی نوجوان آبادی کی وسیع مگر تاحال پوری طرح بروئے کار نہ آنے والی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنرمندی کی ترقی، صنعت اور کاروبار کے شعبوں میں ملائیشیا کے ساتھ مضبوط تعاون سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔نجی شعبے کی زیادہ فعال شرکت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط، چیمبرز آف کامرس کے مابین باقاعدہ تبادلوں اور تجارتی فروغ کے اداروں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری حلقوں کے درمیان مسلسل رابطہ کاری ہی بات چیت کو عملی سرمایہ کاری کے منصوبوں، تجارت میں اضافے اور باہمی مفاد کے اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ قیصر احمد شیخ نے ملائیشین کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے اور پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داریاں قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ملائیشین سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرنے اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے والے قابلِ عمل کاروباری منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔تقریب نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال، تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی اور ادارہ جاتی و کاروباری روابط کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ دونوں ممالک میں تجارتی تعاون کو وسعت دینے، مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور مسلسل شراکت داری کے ذریعے علاقائی و عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش مقام کے طور پر متعارف کرانے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور ایسی اقتصادی شراکت داریوں کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے جو پائیدار ترقی، صنعتی پیشرفت، روزگار کے مواقع اور مشترکہ خوشحالی میں معاون ثابت ہوں۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
