ہومپاکستانپی ٹی آئی دہشتگردی کے خاتمے پر بات کرنے کو تیار نہیں تھی جس پر آئینی ذمہ داری پوری کی، رانا ثنااللہ

پی ٹی آئی دہشتگردی کے خاتمے پر بات کرنے کو تیار نہیں تھی جس پر آئینی ذمہ داری پوری کی، رانا ثنااللہ

اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا قدم نہ اٹھانا پڑے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رویے کے باعث حکومت کو بادل نخواستہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا پڑی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں وزیراعظم نے ان سے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی سے بات چیت کریں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پہلے ملاقاتیں بحال کی جائیں، پھر علاج کے معاملے پر بات ہوگی۔ ان کا موقف تھا کہ پہلے حکومت یہ تمام اقدامات کرے، اس کے بعد وہ دیکھیں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔رانا ثنااللہ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بھی رابطہ کیا گیا، تاہم بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت نیک ہے اور وہ ملک کی بہتری چاہتی ہے۔ آئندہ 2 سے 4 روز میں تمام معاملات مکمل کر لیے جائیں گے، جس کے بعد بھرپور عزم اور سنجیدگی کے ساتھ کام شروع کیا جائے گا۔رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اس سے پہلے بھی 3 مرتبہ اسلام آباد آنے کی کوشش کر چکی ہے، لیکن ان کی کوئی تیاری نہیں ہوتی۔ انہوں نے 5 اگست کو بھی دعوی کیا تھا کہ 20 لاکھ لوگ نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے خیبرپختونخوا میں اس کی 13 سالہ حکومتی کارکردگی کا حساب لیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ وہ 13 سال تک صوبے میں کیا کرتی رہی۔رانا ثنااللہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داری بادل نخواستہ پوری کی ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں معاملات طے ہونے کے باوجود وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی، جس کے باعث بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔