اسلام آباد (سب نیوز)وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے تحت اب صوبائی حکومت ختم ہوچکی ہے، اب گورنر کو اختیار ہے کہ وہ وفاق کے تحت صوبے کا انتظام چلائیں۔اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، ان 12 اضلاع میں اے آر ڈی سی قائم کیا ہے۔ 12 اضلاع میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کریں گے، گورنر اس اے آر ڈی سی کو بھی دیکھیں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت افواج کو گورنر کی معاونت کیلئے کے پی میں تعینات کرنے کا آرڈر بھی کیا گیا ہے، صدر مملکت نے آئین کے اندر رہتے ہوئے اقدام کیا، آئین پاکستان 1973 کے تحت دیے گئے اختیار کو استعمال کیا ہے، آئین کا آرٹیکل 232 کہتا ہے صوبے میں کوئی بیرونی حملہ یا اندرونی خلفشار ہو تو ایمرجنسی کا اطلاق ہوتا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو صدارتی اعلان کے تحت غیر فعال کردیا گیا ہے۔ صدارتی اعلان میں گورنر کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کا اختیار دیا گیا ہے، گورنر کو 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دینے کی ایڈوائس دی گئی ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ یہاں تو صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے تو ایمرجنسی کا نفاذ ہوا۔ صدارتی اعلان میں 12 اضلاع کیلیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مجھ سے 20 دن پہلے پوچھا گیا کہ ایمرجنسی لگے گی تو میں نے کہا حالات ہوئے تو ضرور لگے گی۔ اب آپ نے دیکھ لیا 20 دن میں کیا کیا ہوا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو انتہائی تشویشناک باتوں سے آگاہ کیا تھا۔ خیبرپختونخوا حکومت عوام کے تحفظ کو پس پشت ڈال کر اپنی سیاست کررہی تھی۔ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے، جبکہ مذاکرات رات ڈھائی بجے تک جاری رہے۔
