ہومتازہ ترینوفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، سالک حسین اور عطاء تارڑ سمیت دیگر کابینہ ارکان اجلاس میں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سابق فاٹا اور متصل علاقوں میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
کابینہ اجلاس میں وفاقی وزراء شریک ہیں جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی صورتحال پر غور کرے گی۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر پولیس اور احساس اداروں کی خصوصی رپورٹس وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی ہیں، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی اور گورننس سے متعلق اہم امور وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق بڑے اور اہم آئینی اور انتظامی فیصلے متوقع ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ، رپورٹس پیش
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا، دہشت گردی میں مسلسل اضافہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کیلئے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا۔
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی سطح پر تیاری، توجہ اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا۔
یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط بھی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج قراردیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا۔2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا جبکہ 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ بارودی حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا، آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 181 ہو گئی، رواں سال ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے بدلتے طریقۂ کار کے مقابلے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے،پورے خیبر پختونخوا کیلئے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔خیبر پختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں اور ضروری آپریشنل سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی ہے،محفوظ گاڑیوں کی عدم دستیابی سے جنوبی اضلاع میں پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثرہوئی۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید سرویلنس اور انٹیلی جنس آلات ناکافی ہیں، نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو مطلوبہ تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کی کمی ہے۔
سی ٹی ڈی کو خصوصی تربیت یافتہ افرادی قوت کی سنگین کمی کا سامنا ہے، خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس ہونے کے باوجود افرادی قوت کیلئے سی ٹی ڈی کا معمول کی پولیس پر انحصار ہے،سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولیات اور خصوصی انفراسٹرکچر ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں، دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کیلئے سی ٹی ڈی کے مخصوص، جدید اور مضبوط انفراسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور گورننس کی صورتحال پر کابینہ کمیٹی نے شدید اظہارِ تشویش کیا ہے۔
رپورٹ میں سکیورٹی اداروں کی استعداد، صوبائی تیاری اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں موجود سنگین خلا ، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے اسباب اور ذمہ داریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ یا ایمرجنسی کے معاملے پر اتفاق ہوگیا، 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔