اسلام آباد (سب نیوز) ایتھوپیا اور پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، طلبہ کے تبادلوں اور تحقیق کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔
اس حوالے سے ایتھوپیا کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر عمر ایچ اوبا اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کے قیام، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، طلبہ کے تبادلوں اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر ایچ اوبا نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں تعلیمی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے دونوں اقوام کو مزید قریب لانے اور گلوبل ساؤتھ میں مشترکہ ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سفیر نے ایتھوپیا کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک نوجوانوں کی فنی و تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، بلاک چین اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں میں مہارتوں کے فروغ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کی قیادت میں شروع کیے گئے فائیو ملین ایتھوپیئن کوڈرز اقدام کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافے اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد ملی ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایتھوپیا کی اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان افریقی ممالک، بالخصوص ایتھوپیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان اشتراک کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیمی روابط اور مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔
