پاکستان کیلئے ایک ارب 21 کروڑ ڈالر قرض کی راہ ہموار ہوگئی۔ جائزہ مذاکرات کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات کے باوجود معاشی استحکام کو برقرار رکھا۔ ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی۔ نئی قسط ملنے کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر ملنے والی رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہوجائے گی۔
آئی ایم ایف نے ایک بار پھر ڈو مور کا مطالبہ دہرادیا۔ سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے، بجلی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور گیس شعبے میں لاگت کی وصولی بہتر بنانے کا کہا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے زور دیا کہ پاکستان میں معیشت کو زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کیا جائے ۔ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے اور سرکاری اداروں میں شفافیت بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پاکستانی حکام پر زور دیا کہ ٹیکس نظام کو آسان اور منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف حکام نے یہ سفارش بھی کی کہ انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے پر سرکاری وسائل بڑھائے جائیں ۔ برآمدات بڑھانے کیلئے بھی معاشی اصلاحات کو اہم قرار دیا گیا ۔ اسٹاف لیول معاہدے کی حتمی منظوری واشنگٹن میں آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ ہوگیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
