ہومتازہ ترینآئی ایم ایف مذاکرات میں کاروباری لاگت اور توانائی نرخوں میں کمی کو ترجیح دی جائے، عاطف اکرام شیخ

آئی ایم ایف مذاکرات میں کاروباری لاگت اور توانائی نرخوں میں کمی کو ترجیح دی جائے، عاطف اکرام شیخ

اسلام آباد: صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ جاری مذاکرات میں کاروباری لاگت اور توانائی نرخوں میں کمی کو معاشی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ معاشی استحکام کے ساتھ صنعت و تجارت کے لیے سازگار کاروباری ماحول یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام میں معاشی استحکام کے ساتھ معاشی نمو اور نجی شعبے کی مسابقت کو بھی مرکزِ نگاہ بنایا جائے۔

عاطف اکرام شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات میں کاروباری لاگت کم کرنے کا ایجنڈا ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے، کیونکہ مہنگی بجلی اور توانائی کی بلند لاگت نے صنعتی شعبے کی مسابقت کو متاثر کیا ہے۔ صنعتی شعبے کو مسابقتی بجلی اور گیس ٹیرف فراہم کرنا برآمدات میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے بغیر پیداواری لاگت اور برآمدی مسابقت میں بہتری مشکل ہے۔ گردشی قرض میں کمی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن کا بوجھ صنعت پر منتقل نہ ہو۔

صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے بجلی، گیس، فنانسنگ اور لاجسٹکس کی لاگت کم کرنا ہوگی۔ تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے برآمدات بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ تجارتی خسارہ کم کرنے کا پائیدار راستہ برآمدی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں کاروباری شعبے پر غیر ضروری لاگت بڑھانے کے بجائے پیداواری معیشت کو فروغ دیا جائے۔ معاشی اصلاحات کا مقصد صرف مالیاتی اہداف کا حصول نہیں بلکہ پائیدار معاشی نمو اور روزگار میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایسی معاشی پالیسی تشکیل دی جائے جو معاشی استحکام کے ساتھ نمو کو بھی یقینی بنائے۔I prefer this response

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔