ٹوکیو (سب نیوز)ایشین گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ایک بار پھر میڈل حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے، جو 80.29 میٹر کی تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے، انہوں نے 6 میں سے صرف 2 تھروز مکمل کیں جب کہ سری لنکا کے رمیش پتھراگے نے 88.55 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
جاپان کے شہر ناگویا میں جاری ایشین گیمز کے جیولین تھرو میں پاکستان کے ارشد ندیم اور یاسر علی نے حصہ لیا تاہم ایونٹ کے فائنل میں ارشد ندیم میڈل حاصل نہ کرسکے اور چوتھی پوزیشن پر مقابلہ ختم کیا۔ارشد ندیم نے فائنل کی پہلی باری میں 76.69 میٹر کی تھرو کی جب کہ ان کی دوسری تھرو ضائع ہوگئی تاہم انہوں نے تیسری باری میں کم بیک کیا اور 80.29 میٹر کی تھرو لگائی، جو مقابلے میں ان کی سب سے بڑی تھرو ثابت ہوئی۔اس کے بعد ارشد ندیم کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی تھرو بھی ضائع ہوگئی، پاکستانی ایتھلیٹ نے فائنل میں 6 تھروز میں سے صرف 2 تھروز مکمل کیں اور ان کی 4 تھروز ضائع ہوئیں جب کہ ان کی بہترین کوشش 80.29 میٹر رہی، جس کے باعث وہ پوڈیم تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان کے ارشد ندیم ایونٹ میں میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے اور 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے جب کہ ارشد ندیم 2026 کے کامن ویلتھ گیمز کے بعد ایشین گیمز میں بھی جیولن تھرو کا میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے۔فائنل میں سری لنکا کے رمیش پتھراگے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 88.33 میٹر کی تھرو کی اور پہلی پوزیشن کے ساتھ گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا۔ بھارت کے یشویر سنگھ نے 85.14 میٹر کی تھرو کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی اور سلور میڈل حاصل کیا جب کہ بھارت ہی کے روہت یادیو نے 84.35 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی اور برونز میڈل جیتا۔دوسری جانب پاکستان کے ایک اور ایتھلیٹ محمد یاسر بھی جیولن تھرو کے فائنل میں شریک تھے اور وہ فائنل راونڈ کے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئے۔ محمد یاسر کی پہلی تھرو ضائع ہوگئی جب کہ تیسری باری میں انہوں نے 73.47 میٹر کی تھرو کی۔ محمد یاسر کی بہترین تھرو 73.50 میٹر رہی اور وہ 14 ایتھلیٹس میں 9 ویں نمبر پر رہے۔
ارشد ندیم کے لیے ایشین گیمز کا یہ نتیجہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ اس سے قبل 2026 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھی میڈل حاصل نہیں کرسکے تھے۔گلاسگو میں ہونے والے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم نے 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ ان کی پہلی کوشش فال قرار پائی، دوسری کوشش میں انہوں نے 77.41 میٹر کی تھرو کی جو ان کی بہترین کارکردگی ثابت ہوئی جب کہ تیسری اور آخری کوشش میں وہ 75.20 میٹر تک نیزہ پھینک سکے۔ ان کی 77.41 میٹر کی بہترین تھرو انہیں ٹاپ 8 میں پہنچانے کے لیے کافی نہ تھی، یوں وہ ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئے۔کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے رمیش پتھراگے نے 89.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل حاصل کیا، بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی اور بھارت ہی کے یشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔اس سے قبل پیرس اولمپکس 2024 میں ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے 40 سال بعد گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے اولمپکس میں جیولن تھرو کا نیا ریکارڈ بنایا تھا۔ارشد ندیم کا پہلا تھرو فال قرار دیا گیا تھا لیکن دوسری باری میں انہوں نے 92.97 میٹر کی اولمپکس کی سب سے بڑی تھرو کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
ایشین گیمز، جیولن تھرو فائنل، ارشد ندیم ایک بار پھر میڈل حاصل کرنے میں ناکام
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
