ہومتازہ ترینسی ڈی اے کی اسلام آباد میں ڈینگی سے بچاو اور ویکٹر کنٹرول آپریشنز میں تیزی

سی ڈی اے کی اسلام آباد میں ڈینگی سے بچاو اور ویکٹر کنٹرول آپریشنز میں تیزی

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے وژن کے تحت سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ اور محکمہ صحت اسلام آباد کے تعاون سے وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی سے بچا واور ویکٹر کنٹرول کے لیے جامع اور موثر سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ڈینگی مچھروں کی افزائش گاہوں کی بروقت نشاندہی اور خاتمہ، موثر سرویلنس اور بیماری کی ممکنہ منتقلی کو ابتدائی مرحلے ہی میں روکنا ہے۔

ویکٹر کنٹرول آپریشنز ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، سی ڈی اے، ایم سی آئی کی نگرانی میں تمام کارروائیوں کے دوران موثر سرویلنس، بروقت تشخیص، مکینیکل سورس ریڈکشن، لاروا کنٹرول اور ہائی رسک علاقوں میں ٹارگٹڈ سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ڈینگی کی منتقلی کے امکانات کو کم سے کم کرتے ہوئے شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے 28 ستمبر 2026، وبائی ہفتہ 38 تک اسلام آباد میں ڈینگی کی صورتحال قابو میں ہے۔ ڈینگی کی روک تھام کے لیے فیلڈ ٹیموں کی جانب سے شہر بھر میں بڑے پیمانے پر سرویلنس اور ویکٹر کنٹرول سرگرمیاں جاری ہیں۔28 ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 1245383 گھروں میں ویکٹر سرویلنس کی جا چکی ہے، جبکہ 65011 گھروں میں ڈینگی لاروا کی موجودگی کی نشاندہی کرکے اسے مکینیکل طریقے سے تلف کیا گیا ہے۔

اس دوران مجموعی طور پر 1915999 فیلڈ وزٹس کیے گئے، جبکہ 13834 مچھروں کی افزائش گاہوں کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کیا گیا۔ اسی طرح 601912 ڈینگی آگاہی سرگرمیاں، 231013 لاروی سائیڈنگ سرگرمیاں اور 140436 آٹ ڈور سرویلنس سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ مزید برآں، لاروا سے متاثرہ 1534 آوٹ ڈور مقامات کی نشاندہی کرکے انہیں بھی تلف کیا گیا ہے۔اسلام آباد کے شہری علاقوں میں تقریبا 530049 گھروں کی متعدد مرتبہ سرویلنس کی جا چکی ہے، جبکہ مچھروں کی افزائش گاہوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت خاتمے کے لیے 15 روز کے وقفے سے فالو اپ سرویلنس بھی جاری ہے۔ شہری علاقوں میں تقریبا 300 فیلڈ اہلکار ویکٹر کنٹرول آپریشنز میں سرگرمِ عمل ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں 600 سے زائد اہلکار ڈینگی کی روک تھام کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔سینیٹری پٹرول اور فیلڈ ٹیمیں رہائشی علاقوں، کمرشل مقامات، خالی پلاٹس، چھتوں، باغات، گملوں، پانی جمع ہونے کے مقامات اور ڈینگی ہاٹ اسپاٹس کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

مچھروں کی نشاندہی شدہ افزائش گاہوں کو مکینیکل سورس ریڈکشن اور مناسب لاروا کنٹرول اقدامات کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے تاکہ مچھروں کی افزائش کو بیماری کی منتقلی کا سبب بننے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔سی ڈی اے اور محکمہ صحت اسلام آباد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگی سے بچاو کے لیے فیلڈ ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے گھروں، چھتوں، باغیچوں، گملوں، مختلف برتنوں اور اردگرد کے علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ جہاں پانی جمع ہو، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ مچھروں کو افزائش کا موقع نہ مل سکے۔ ڈینگی کی مثر اور پائیدار روک تھام کے لیے عوامی شمولیت، بروقت احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری انتہائی اہم ہے، خصوصا ڈینگی کے ہائی رسک سیزن کے دوران۔سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی جانب سے ڈینگی کی روک تھام کے لیے جامع سرویلنس، حفاظتی اقدامات، آگاہی مہم اور ٹارگٹڈ ویکٹر کنٹرول آپریشنز مسلسل جاری رکھے جائیں گے تاکہ مچھروں کی افزائش گاہوں کی بروقت نشاندہی، فوری خاتمہ اور شہریوں کے زیادہ سے زیادہ تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔شہریوں نے ڈینگی کی روک تھام اور ویکٹر کنٹرول کے لیے سی ڈی اے اور محکمہ صحت اسلام آباد کی فعال اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے فیلڈ سرویلنس، مچھروں کی افزائش گاہوں کی نشاندہی و تلفی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جاری حفاظتی اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔منتقلی سے پہلے روک تھام، وبا سے پہلے بروقت اقدام شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔