پشاور(سب نیوز) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر راج آئینی و قانونی راستہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔
پشاور پریس کلب میں صوبائی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی صورت میں گورنر فیصل کریم کنڈی ہی اسے لیڈ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں اور انہیں ہٹانے کی کوئی بات نہیں ہوئی، وہ اچھا کام کر رہے ہیں، تاہم باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنے کے بجائے جیل جانے کی تیاری کریں، لانگ مارچ کے نام پر ٹھیکیداروں اور عوام سے اربوں روپے چندے کی صورت میں اکٹھے کیے گئے، جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ ان کے بقول 27 ستمبر کے لیے بھی تیاریاں مکمل نہیں تھیں اور اب 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے وسائل اور ٹیکسوں کا پیسہ جلسے جلوسوں پر خرچ کر رہی ہے، جبکہ عوام نے پی ٹی آئی کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ووٹ دیا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو غنڈہ گردی کے القاب سے پکارنا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا صوبہ دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے لیکن صوبائی حکومت کی توجہ ایک سیاسی قیدی کی رہائی پر مرکوز ہے۔امیر مقام نے کہا کہ وفاق کسی ایک فرد کی رہائی کے معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، تاہم دیگر ایشوز پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایک فرد کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے افغانستان اور طالبان سے مذاکرات کی بات کرکے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ امیر مقام نے صوبائی حکومت کی پولیس پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ایکٹ کے ذریعے پولیس پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس وزیراعلی کی نشست کے لیے کوئی ایسی شخصیت نہیں جو اس منصب کی اہل ہو، جبکہ موجودہ حکومت میں وزرائے اعلی کی تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی کی قیادت میں بھی اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا تھا، تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیے جانے کے بعد ان کی ضمانتیں کروا کر انہیں گھروں تک پہنچایا گیا۔وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ اور پارٹی کارکنوں کے نام پر اربوں روپے چندے کی صورت میں جمع کیے جا رہے ہیں اور یہ رقم مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے لیے عوام کو جمع کرنے کی کوشش کی لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی، جس کے بعد 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی۔امیر مقام نے کہا کہ گورنر راج ایک آئینی آپشن ہے اور موجودہ صورتحال میں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، امیر مقام
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
