ممبئی (آئی پی ایس )بھارتی اسٹار بیٹر ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ بھارت کیلئے ان کا آخری ورلڈ کپ ہوگا اور وہ ٹرافی جیتنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ویرات کوہلی نے ایک انٹرویو کے دوران 2027 کے ورلڈ کپ میں اپنے ہدف کے بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہدف بالکل واضح ہے کہ ورلڈ کپ جیتنا ہے اور اس کیلئے جو کچھ کرنا پڑے گا وہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ویرات کوہلی نے 2023 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ احمد آباد میں کھیلا گیا وہ فائنل اب بھی انہیں بہت زیادہ تکلیف دیتا ہے۔
بھارتی بیٹر کے مطابق 2023 کے ورلڈ کپ میں بھارت اپنی سرزمین پر کھیل رہا تھا اور جس طرح کی فارم میں ٹیم تھی کھلاڑیوں کو یقین تھا کہ وہ ورلڈ کپ جیتیں گے۔ویرات کوہلی نے بتایا کہ 2025 میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے آئی پی ایل جیتنے سے قبل انہیں 2016 کے فائنل کے مناظر یاد آتے رہتے تھے، جس میں ان کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد سے ہار گئی تھی اور انہیں 2023 کے ورلڈ کپ فائنل کے بارے میں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کے خلاف فائنل میں وہ 54 رنز پر کھیل رہے تھے اور بڑی سنچری کیلئے خود کو تیار کرچکے تھے۔کوہلی کے مطابق انہیں لگ رہا تھا کہ اگر وہ 140 یا 150 رنز بنالیں تو بھارت ایک مضبوط پوزیشن میں ہوگا کیونکہ بڑے فائنل میں 300 سے زائد رنز بنائے جاسکتے ہیں اور بھارتی بولنگ کے ساتھ انہیں یقین تھا کہ آسٹریلیا کو روکا جاسکتا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ جیسے ہی وہ پیٹ کمنز کی گیند پر بولڈ ہوئے تو اس شکست کو کئی دن تک قبول کرنا مشکل رہا اور وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچتے رہے۔ویرات کوہلی نے کہا کہ پورا ورلڈ کپ بہت اچھا تھا اور ٹیم کا ماحول شاندار تھا۔ ان کے مطابق ٹیم کے اندر کھلاڑیوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی تھی اور ہر کوئی ایک دوسرے کیلئے کھیل رہا تھا۔انہوں نے ہاردک پانڈیا کی انجری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں ہاردک کا زخمی ہونا بڑا نقصان تھا، تاہم ٹیم نے اس بارے میں نہیں سوچا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔
کوہلی کے مطابق محمد شامی نے ٹیم میں آنے کے بعد وکٹیں حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور اس وقت ہر کسی کو محسوس ہوتا تھا کہ یہ بھارت کا ورلڈ کپ ہے۔ویرات کوہلی نے کہا کہ اس وقت ٹیم میں ایک مختلف توانائی تھی اور فائنل میں کھیل کا رخ اس انداز میں بدلنے کے بعد اسے قبول کرنا بہت مشکل تھا۔2027 کے ورلڈ کپ میں کامیابی کے ساتھ ساتھ فائنل میں بھارت کیلئے فاتحانہ رنز بنانا بھی ویرات کوہلی کا خواب ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے ایسے کھلاڑی رہے ہیں جو ہر میچ میں اپنی ٹیم کو جتوانے والا کھلاڑی بننا چاہتے ہیں اور یہ جذبہ ان سے کبھی ختم نہیں ہوگا۔کوہلی کے مطابق ورلڈ کپ میں ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ میچز بھارت کیلئے جیتنا ہوگا اور اگر وہ ٹیم کے 60 سے 70 فیصد میچز جتوانے میں کردار ادا کریں تو یہ شاندار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ ورلڈ کپ کے فائنل میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ایسی اننگز کھیلیں جس سے بھارت کو کامیابی حاصل ہو۔ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت اچھا ہوگا لیکن اگر وہ فائنل میں میچ وننگ اننگز نہ بھی کھیل سکیں اور بھارت ورلڈ کپ جیت جائے تو وہ اس سے بھی اتنے ہی خوش ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ آخری مرتبہ ہے کہ آپ ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں تو سب سے اہم چیز ٹرافی حاصل کرنا ہے۔
کوہلی نے کہا کہ اگر انہیں فائنل میں میدان میں رہتے ہوئے بھارت کیلئے میچ جتوانے کا موقع ملتا ہے تو بطور بیٹر اس سے زیادہ اطمینان بخش کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ویرات کوہلی اور روہت شرما اب بین الاقوامی سطح پر صرف ون ڈے فارمیٹ میں کھیل رہے ہیں۔ دونوں کھلاڑی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ون ڈے کرکٹ کے نمایاں بیٹرز میں شمار ہونے والے ویرات کوہلی کی اس فارمیٹ میں کارکردگی میں حالیہ عرصے کے دوران بہتری آئی ہے۔2025 کے آغاز سے قبل ون ڈے کرکٹ میں ان کی اوسط 58.18 تھی جو اب 58.59 ہوگئی ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران ان کی بیٹنگ اوسط 64.68 رہی ہے۔اسی طرح 2024 کے اختتام تک ویرات کوہلی کا ون ڈے اسٹرائیک ریٹ 93.54 تھا جو اس عرصے کے بعد بڑھ کر 99.80 ہوگیا ہے۔کوہلی نے کہا کہ انہوں نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب زیادہ آزادی کے ساتھ کھیلیں گے اور لوگوں کی توقعات کے بارے میں فکر نہیں کریں گے۔ان کے مطابق اگر وہ وکٹ پر سیٹ ہوں تو اب ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کھیل میں فرق پیدا کریں اور مزید 30 سے 40 رنز بنائیں، جبکہ مناسب وقت پر رفتار تیز کرنے کیلئے بھی تیار رہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی ون ڈے کرکٹ تیز رفتاری سے تبدیل ہورہی ہے اور اگر حالات سازگار ہوں تو ٹیمیں 340 یا 350 رنز کی جانب جانے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے بھارت کو بھی 350 یا 360 رنز بنانے کے قابل ہونا چاہیے۔ویرات کوہلی نے کہا کہ اب وہ خطرات مول لینے کیلئے زیادہ تیار ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر وہ زیادہ دیر کریز پر رہیں تو اننگز کے اختتام پر زیادہ تیزی سے رنز بنا سکتے ہیں۔
