اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے صدر سردار طاہر محمود نے فائر سیفٹی، آفات سے بچا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کو قومی ترجیح بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے عملی تیاری، پیشہ ورانہ تربیت اور حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام خدمتِ خلقمسلم ریسکیو مشن کے تعاون سے منعقدہ ایک روزہ پروفیشنل ریسکیو اینڈ سیفٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ حادثہ پیش آنے کے بعد زندگی بچانے کے لیے بعض اوقات صرف چند لمحے میسر ہوتے ہیں، اس لیے حادثات کی روک تھام اور پیشگی تیاری پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے منتظمین کو سراہا کہ انہوں نے کاروباری برادری کے ایجنڈے میں حفاظتی شعور اور عملی ریسکیو مہارتوں کو شامل کیا۔انہوں نے پاکستان بھر کے تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ اپنے ممبران کے لیے اسی نوعیت کے پیشہ ورانہ فائر سیفٹی، ریسکیو اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے تربیتی پروگرام منعقد کریں۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری میں حفاظتی کلچر فروغ دینے میں چیمبرز کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ایسے اقدامات کو صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ملک بھر کے چیمبرز کی باقاعدہ سرگرمیوں کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز کی اجتماعی کوششیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری، قابلِ تلافی جانی نقصانات میں کمی اور کاروبار و املاک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ فائر ایکسٹنگوشرز، الارمز اور دیگر حفاظتی نظام پر نسبتا معمولی سرمایہ کاری سے لاکھوں روپے کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے، تاہم انسانی جان کے ضیاع کا کوئی مالی ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی صرف آلات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ملازمین اور عمارت میں موجود افراد کو ہنگامی صورتحال میں مثر ردعمل دینے کی تربیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام اداروں میں فائر اور ریسکیو انتظامات کا منظم جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے نظام کو ازسرنو ترتیب دینے اور سیفٹی کو وہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے جس کی وہ مستحق ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ چیمبر خود عملی مثال قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی آئی کی عمارت کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرایا گیا ہے جبکہ حفاظتی انتظامات اور آلات کی بہتری پر تقریبا 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کاروباری اداروں اور دیگر تنظیموں پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے سیفٹی آڈٹ کرائیں، نشاندہی کیے جانے والے نقائص کو دور کریں اور اپنے عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دیں۔ انہوں نے کہا، “اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے اپنے گھر کو درست رکھیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔”خدمتِ خلقمسلم ریسکیو مشن کے چیئرمین چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ نے کہا کہ ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے اس نوعیت کی اہم ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم نے ملک کے 25 اضلاع، جن میں اسلام آباد بھی شامل ہے، میں جدید ریسکیو سینٹرز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مثر بنایا جائے گا۔موٹیویشنل اسپیکر احسان اللہ منصور نے کہا کہ اسلام اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حقیقی توکل کا تقاضا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے سے پہلے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے وبائی امراض کے حوالے سے نبی کریم ۖ کی تعلیمات اور اونٹ باندھ کر پھر اللہ پر توکل کرنے کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آگاہی، پیشگی تیاری اور حفاظتی تربیت اسلامی تعلیمات سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری میں حادثات سے بچا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی سی سی آئی کے سینئر رکن یاسر عرفات بٹ اور خدمتِ خلق کے ابرار وحید نے ورکشاپ کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی، جبکہ ماہر تربیت کاروں نے فائر پریوینشن، حفاظتی آلات کے استعمال، ہنگامی ردعمل اور ریسکیو کی عملی تکنیکوں کے حوالے سے پریزنٹیشنز اور عملی رہنمائی فراہم کی۔ شرکا نے تربیتی سیشنز میں بھرپور دلچسپی لی اور ہنگامی صورتحال سے مثر انداز میں نمٹنے کے لیے عملی معلومات اور مہارتیں حاصل کیں۔اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے انسانی جانوں، کاروبار اور املاک کے تحفظ کے لیے پیشگی احتیاط، تیاری اور ذمہ دارانہ ہنگامی ردعمل کے کلچر کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب میں آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
