ہوماسلام آبادآئی سی سی آئی میں یو این ڈی پی کے ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ پراجیکٹس پر انٹرایکٹو سیشن

آئی سی سی آئی میں یو این ڈی پی کے ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ پراجیکٹس پر انٹرایکٹو سیشن

اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اصل ضرورت ترقیاتی عزائم کو سرمایہ کاری اور سرمایہ کاری کو قابلِ عمل، موثر اور نتیجہ خیز منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان اور متحرک آبادی سمیت بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اسے سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی، مہارت اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کے مواقع سے منسلک کرکے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد مضبوط کرنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر ہاوس میں یو این ڈی پی کے ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ پراجیکٹس کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی انٹرایکٹیو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار خوشحالی صرف سرکاری شعبے کی کوششوں سے حاصل نہیں کی جاسکتی، حکومت سازگار کاروباری ماحول فراہم کرتی ہے، ترقیاتی ادارے علم اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں جبکہ نجی شعبہ سرمایہ، جدت، کارکردگی اور وسعت پیدا کرتا ہے، اس لیے سرکاری و نجی شراکت داری کو قومی معاشی تبدیلی کا مثر ذریعہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ا سرمایہ کاری کے ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کو محض ترقیاتی ترجیحات کے بجائے ایسے سرمایہ کاری مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے جو معاشی منافع کے ساتھ سماجی اور ماحولیاتی فوائد بھی پیدا کریں۔ نٹشیل کے چیف ایگزیکٹو اسٹریٹجک انگیجمنٹس ایئر چیف مارشل ریٹائرڈ سہیل امان نے کہا کہ کاروباری برادری بلند توانائی لاگت، ٹیکسوں اور دیگر ساختی مسائل کے باوجود معاشی سرگرمی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں انسانی وسائل اور افرادی قوت کی ترقی کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس کو اس عمل میں اہم پل قرار دیتے ہوئے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ منصوبوں کے بارے میں اپنی تجاویز دے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نشاندہی میں کردار ادا کرے۔ ھیڈ آف ڈویلپمنٹ پالیسی یونٹ، یواین ڈی پی پاکستان مس نغمہ تہنیت نے کہا کہ ادارہ 2020 سے پاکستانی منصوبوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز تک پہنچانے اور پاکستان کو سرمایہ کاری کی ایک پرکشش منزل کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نٹشیل کے تعاون سے ایسے منصوبوں کی نشاندہی اور عالمی سطح پر تشہیر کی جارہی ہے جو ترقیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ تجارتی طور پر بھی قابلِ عمل ہوں۔ انہوں نے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ منصوبوں کے بارے میں اپنی آرا اور تجاویز دیں تاکہ انہیں مارکیٹ کی ضروریات اور سرمایہ کاروں کے تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جاسکے۔نٹشیل کے منصوبہ جاتی مشیر سجید اسلم نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تعاون سے قومی پائیدار ترقیاتی اہداف سرمایہ کاری منصوبے کے تحت سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبوں کا جائزہ لے کر انہیں ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے منصوبوں کو ترقیاتی اثرات، مالیاتی استحکام اور تجارتی استعداد کی بنیاد پر پرکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاری کے اس مجموعے میں وفاقی اور صوبائی سطح کے چالیس سے زائد منصوبے شامل ہیں جن کا تعلق ٹرانسپورٹ، صحت، زراعت، خوراک، پانی و صفائی، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، صنعت و تجارت، شہری ترقی، جائیداد، سیاحت، ٹیکنالوجی، تعلیم، ہنر اور کچرے کے انتظام سمیت گیارہ اہم شعبوں سے ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر پائیدار ترقیاتی اہداف مس شاہ بانو خان نے بھی منصوبے کے بنیادی مقاصد اور سرمایہ کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔آئی سی سی آئی ایگزیکٹو ممبر ذوالقرنین عباسی نے اپنے کلمات میں کہا کہ ایسے اقدامات کاروباری برادری کو نئے سرمایہ کاری مواقع سے روشناس کرانے اور ترقیاتی اداروں و منصوبہ سازوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سیشن کی نظامت آئی سی سی آئی ایگزیکٹو ممبر وسیم چوہدری نے مثر انداز میں کی۔ اس موقع پر سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، آئی سی سی آئی کے سینئر اراکین اختر عباسی اور ساجد اقبال، نٹشیل کی مس فریدہ مظہر اور نہیان مرزا سمیت کاروباری برادری کے دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔